شدید گرمی میں قدرتی ٹھنڈک کا حل: خس کے پردے ایک بار پھر مقبول

خوشبودار گھاس کی جڑوں سے تیار کیے جانے والے پردے جدید طرزِ رہائش میں بھی تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں


ویب ڈیسک April 25, 2026

شدید گرمی اور لو کے موسم میں جہاں اے سی کا بڑھتا ہوا استعمال بجلی کے بلوں کو آسمان تک پہنچا دیتا ہے، وہیں قدرتی اور روایتی طریقہ ’’خس کے پردے‘‘ ایک بار پھر توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ یہ نہ صرف کم خرچ حل ہے بلکہ گھروں کے ماحول کو قدرتی طور پر ٹھنڈا اور خوشگوار بنانے میں بھی مدد دیتا ہے۔

خس ایک خوشبودار گھاس کی جڑوں سے تیار کیے جانے والے یہ پردے اب صرف دیہی یا روایتی گھروں تک محدود نہیں رہے بلکہ جدید طرزِ رہائش میں بھی تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ ان جڑوں کی خاصیت یہ ہے کہ یہ پانی کو جذب کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہیں، جس کے باعث یہ قدرتی ایئر کولنگ سسٹم کے طور پر کام کرتی ہیں۔

جب ان پردوں کو گیلا کیا جاتا ہے تو یہ گرم ہوا کو جذب کر کے اسے بخارات میں تبدیل کر دیتے ہیں، جس سے کمرے کا درجہ حرارت نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق خس کے گیلے پردے کمرے کا درجہ حرارت تقریباً 5 سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے شدید گرمی میں بھی سکون میسر آتا ہے۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق ان پردوں کے استعمال سے اے سی پر انحصار کم ہو جاتا ہے اور بجلی کے بلوں میں 30 سے 40 فیصد تک کمی ممکن ہے، جو انہیں معاشی طور پر بھی ایک بہترین انتخاب بناتا ہے۔
خس کے پردوں کی ایک اور نمایاں خوبی ان کی قدرتی خوشبو ہے۔ پانی کے رابطے میں آنے کے بعد ان کی جڑوں سے ہلکی، مٹی جیسی خوشبو خارج ہوتی ہے جو ذہنی سکون کا باعث بنتی ہے۔ اسی وجہ سے انہیں قدرتی ’’اروما تھراپی‘‘ کا حصہ بھی سمجھا جاتا ہے، جو ذہنی دباؤ اور بے چینی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

ان پردوں کی گھنی ساخت ہوا میں موجود گرد و غبار اور آلودگی کو بھی کافی حد تک روک لیتی ہے، جس سے کمروں میں نسبتاً صاف اور بہتر ہوا برقرار رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے شہروں میں رہنے والے افراد کے لیے یہ ایک قدرتی فلٹر کے طور پر بھی فائدہ مند سمجھے جا رہے ہیں۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ خس کے پردوں کو کھڑکیوں یا بالکونی کے ایسے حصوں پر لگایا جائے جہاں سے ہوا کا گزر ہوتا ہو اور دن میں چند بار پانی کا چھڑکاؤ کیا جائے تاکہ ان کی ٹھنڈک برقرار رہے۔ آج کل یہ پردے جدید رولنگ بلائنڈز کی شکل میں بھی دستیاب ہیں، جنہیں آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یوں یہ قدیم مگر مؤثر طریقہ ایک بار پھر جدید دور میں اپنی افادیت منوا رہا ہے، جہاں لوگ مہنگے اور مصنوعی وسائل کے بجائے قدرتی اور ماحول دوست حل کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں۔