17 ویں صدی کا ایک شاندار پیتل کا اسطرلاب یا جسے آسان زبان میں فلکیاتی کمپیوٹر بھی کہا جا سکتا ہے، برسوں سے انڈیا کے شہر جے پور کے شاہی خاندان کے نجی مجموعے کا حصہ تھا۔
اب یہ ’’ سپر کمپیوٹر ‘‘ لندن میں 24 سے 29 اپریل تک سوتھبیز کی لندن گیلریوں میں نمائش کے لیے اور نیلامی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اسطرلاب ہے۔ یہ آلہ جے پور کے مہاراجہ سوائی مان سنگھ دوم کے شاہی ذخیرے کا حصہ تھا۔ آکسفورڈ سینٹر فار ہسٹری آف سائنس، میڈیسن اینڈ ٹیکنالوجی سے وابستہ ڈاکٹر فیدریکا گیگانتے کہتی ہیں کہ میں ان آلات کا موازنہ آج کے سمارٹ فونز سے کرتی ہوں کیونکہ ان سے بے شمار کام لیے جا سکتے ہیں۔
ان کے مطابق آپ ان آلات کا استعمال کر کے غروب اور طلوعِ آفتاب کا وقت، کسی عمارت کی اونچائی، کنویں کی گہرائی، فاصلے کا حساب لگا سکتے ہیں اور ان کی مدد سے مستقبل کی پیشگوئی کی جاتی اور زائچے تیار کیے جاتے تھے ۔
یہ خاص اسطرلاب 17ویں صدی کے اوائل میں لاہور میں تیار کیا گیا تھا۔ اس زمانے میں لاہور ان آلات کی تیاری کا نمایاں مرکز بن چکا تھا۔
یہ آلہ دو بھائیوں قائم محمد اور محمد مقیم نے ایک مغل امیر آقا افضل کیلئے تیار کیا تھا۔ آقا افضل نے جہانگیر اور شاہ جہاں کے دور میں خدمات انجام دی تھیں ان بھائیوں نے مشترکہ طور پر صرف دو اسطرلاب تیار کیے تھے۔