اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا

گزشتہ جائزے میں اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا


ارشاد انصاری April 27, 2026

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا ہے اور اسٹیٹ بینک نے شرح سود ساڑھے 10 فیصد سے بڑھاکر ساڑھے 11 فیصد کردی ہے تاجروں اور صنعتکاروں نے شرح سود میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملکی صنعت اور برآمدات کیلئے نقصان دہ قرار دیا ہے اور اس سے ملک میں مہنگائی مزید بڑھے گی۔

صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی کی صورتحال کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے پیداواری لاگت پہلے بہت بڑھ چکی ہے دوسری جانب اسٹیٹ بینک اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مشرق وسطی کی صورتحال کے باعث شرح سود میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہ ہے۔

ترجمان  اسٹیٹ بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی کے طویل اجلاس کے بعد شرح سود پر فیصلہ کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مشرق وسطی کی صورتحال کے باعث شرح سود میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا، عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمت اور سپلائی چین معیشت پر اثر انداز ہوئی، پاکستان میں مہنگائی کا منظر نامہ بھی تبدیل ہوا مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹ اضافہ کیا جس کے بعد شرح سود 10 اعشاریہ 50 فیصد سے بڑھ کر 11 اعشاریہ 50 فیصد ہو گئی ہے۔

معاشی ماہرین کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ جنگ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی مارکیٹ میں معاشی بے یقینی کی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔

واضع رہے کہ گزشتہ جائزے میں اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا اور آج ہونے والے اجلاس میں نئی مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود ساڑھے 10 فیصد سے بڑھاکر ساڑھے 11 فیصد کردی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے فیصلے کا براہ راست اثر مہنگائی پر بھی پڑے گا کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر روزمرہ ضروریات کی چیزوں پر پڑتا ہے۔