پہلے ہم ایسے نہیں تھے بلکہ اچھے خاصے بہادر ہوا کرتے تھے اگر جابر سلطان کے آگے نہیں تو کسی جابر پولیس والے کے آگے تو ’’کلمہ حق‘‘ کہہ سکتے تھے بلکہ ایک دومرتبہ تو خاندانی جھگڑوں میں بندوق اور پستول تک اٹھا چکے تھے بلکہ ایک مرتبہ اسکول کے ایک بدمعاش لڑکے نے ہمیں مارا تو ہم پستول لے کر اسے قتل کر نے کے لیے بھی گھات لگا چکے تھے لیکن اچھا ہوا کہ وہ اس دن اس راستے پر آیا ہی نہیں ۔ لیکن اب یہ حال کہ خون توکیا سرخ رنگ دیکھ کر بھی جھرجھری آجاتی ہے، کوئی تیز دھارآلہ چاقو چھری وغیرہ دیکھ کر بدن میں سنسنی پھیل جاتی ہے اورآتشیں اسلحہ کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جنازوں میں شرکت تو کرتے ہیں لیکن مرحوم کا آخری دیدار بالکل نہیں کرتے ہیں ۔
کہا ناں کہ پہلے ایسے نہیں تھے ،اچھے خاصے دبنگ ہوا کرتے تھے ،پرائمری اسکول میں تو سارے لڑکوں پر اپنی دھاک بٹھائی ہوئی تھی لیکن پھر وہ جانکاہ واقعہ ہوا جس نے ہماری کایا پلٹ دی ،ہوا یوں کہ ہماری تیسری جماعت میں ایک سکھ لڑکا سردار سنگھ عرف دارے ہمارا کلاس فیلو بن گیا جو ہمارے گاؤں کے واحد سکھ گھرانے کا تھا، دبلا پتلا کالا کلوٹا اورکمزور سا لڑکا تھا، اس لیے اسکول کے شریر لڑکے اکثر اسے چھیڑا کرتے تھے اورکسی نہ کسی بہانے تنگ کر تے رہتے تھے لیکن ایک دن جب ہمارا اکلوتا استاد موجود نہیں تھا، استاذجی کو بٹیربازی کاشوق تھا اورجب کبھی بٹیر بازی کا اکھاڑہ ہوتا تھا تو اس دن وہ اکھاڑے میں جاتے تھے ۔
ایسے ہی ایک دن کچھ لڑکوں نے ’’ردارے‘‘ کو پکڑ لیا اوراس کی چوٹی کو ماچس کی تیلی دکھانا چاہی وہ رورہا تھا جان چھڑانے کی کوشش کررہا تھا لیکن وہ اسے پکڑ کر جلانے کے لیے تیلی جلاتے تھے، اس وقت ہمیں اس پر رحم آیا اوران لڑکوں کو مارنا اوراسے چھڑانا شروع کیا، ہم اسکول کے طاقتور لڑکوں میں سے تھے اسے نہ صرف چھڑا لیا بلکہ اعلان کیا کہ اگر آیندہ کسی نے دارے کو تنگ کیا تو ہم اس کی ہڈی پسلی ایک کردیں گے، سارے لڑکے ہمیں جانتے تھے اس لیے انھوں نے دارے کو تنگ کرنا بند کردیا ۔
ایک دن چھٹی کے بعد ردارے نے ہم سے کہا کہ میری ماں تجھ سے ملنا چاہتی ہے، اس کا گھر راستے ہی میں تھا، اس لیے اس کے ساتھ اس کے گھر چلا گیا ، اس کی ماں نے بہت محبت کااظہار کیا اورپھر بٹھا کر کچھ مٹھائی بھی کھلائی، وہ باربار ہم سے محبت کااظہار کرتی تھی اورکہتی جاتی تھی کہ تم نے میرے ردارے کی طرف داری کی ہے تم مجھے ردارے ہی کی طرح عزیز ہو، ردارے کی ماں شہر کے کسی حلوائی خاندان سے بیاہ کرآئی تھی، اس لیے ہمیشہ اس کے پاس کوئی نہ کوئی سوغات آئی ہوئی ہوتی، نہایت خوبصورت عورت تھی اس پر شہری ، اسلیے بناؤ سنگھار اورلباس بھی اچھا ہوتا تھا ،زیادہ وہ سفید لباس پہنتی تھی جس دن گھر میں کوئی پھل یا مٹھائی نہ ہوتی وہ مکئی کی روٹی کو چوری کر کے دیسی گھی اورشکرڈال کرکھلاتی تھی ،کچھ ہی عرصے میں اس نے خود کو میری دوسری ماں بنا لیا بلکہ اپنی ماں سے بھی بڑھ کر کیوں کہ میری اپنی ماں تو ایک سادہ سی دیہاتی عورت تھی اورایک عام عورت کی طرح تھی جب کہ منجی ۔ اس کانام من جیت تھا لیکن گھر والے اسے منجی کہتے تھے۔
ہمارے گاؤں میں یہی ایک سکھ گھرانا تھا اس کے دادا کا نام انوپ سنگھ عرف نوپے تھا جو ایک ہٹی چلاتا لیکن بیٹے اس کے پانچ چھ تھے جن میں کوئی تجارت کرتا تھا کوئی کاشت کاری، اچھی خاصی زمین بھی نوپے نے بنائی تھی ، چھوٹا بیٹا جو اتم سنگھ جو دارے کا باپ اورمنجی کا شوہر تھا قریبی قصبے میں ڈاکٹری کی دکان چلاتا تھا اور ڈاکٹر اتم سنگھ کہلاتا، وہ بڑا ہمدرد قسم کاانسان تھا، گاؤں کے لوگوں سے پیسے نہیں لیتا تھا بلکہ دوائیاں بھی اپنے پاس سے مفت دیا کرتا تھا، گاؤں میں اس نے ضروری دوائیں رکھی ہوئی تھیں، منجی تھوڑی پڑھی لکھی تھی اس لیے چند روزمرہ کی بیماریوں کے لیے وہ بھی عورتوں کو دوائیاں دے دیتی تھیں، گاؤں میں کوئی بیمار ہوتا تو دن رات ڈاکٹر اتم سنگھ ان کاعلاج کرتا تھا اگرپیچیدہ مرض ہوتا جو ڈاکٹر اتم سنگھ کے بس کا نہ ہوتا تو اسے اسپتال لے جانے کا بندوبست بھی کرتا اور وہاں بھی آخر تک ساتھ رہ کردوڑ دھوپ کرتا تھا ۔
وہ صحیح معنی میں گاؤں اور علاقے کا مسیحا تھا اوراس کی بیوی منجی بھی گاؤں کی عورتوں میں بہت مقبول تھی اورپھر پاکستان بننے کااعلان ہوا تو دونوں طرف کے لوگ ہجرت کرنے لگے ،روزانہ بہت خطرناک درد ناک خبریں آنے لگیں، سکھوں نے فلاں جگہ یہ کیا وہ کیا، ہندوؤں کی بجائے سکھوں کا نام زیادہ لیا جاتا تھا، ہمارے اپنے گاؤں کے لوگ بھی سکھوں سے ڈرے ہوئے تھے، ایک دن صبح پتہ چلا کہ انوپ سنگھ کاخاندان بھی پڑوسیوں کی مدد سے اپنا گھر بار بیل گاڑیوں میں ڈال کرچلا گیا ، ردارے بھی ان کے ساتھ گیا تھا صرف اس کے ماں باپ یعنی ڈاکٹراتم سنگھ اورمنجی رہ گئے تھے، ان کاخیال تھا کہ ان لوگوں کی اتنی خدمت کی سارے لوگ ان سے محبت کرتے ہیں اس لیے ان کو کوئی خطرہ نہیں تھا، سب کو یہ بھی یقین تھا کہ حالات بہت جلد سدھر جائیں گے اوراس کاخاندان بھی واپس آجائے گا، البتہ اس نے یہ کیا کہ منجی کو بھی گاؤں سے قصبے میں لے گیا ۔
افواہیں چلتی رہیں ایک دن خبر آئی کہ قریبی قصبے پر سکھوں نے حملہ کردیا ہے، گاؤں کے لوگوں نے سنا تو سب نکل آئے کسی کے پاس تلوار کسی کے پاس نیزہ ، بلم چاقو چھری، اکثر لوگوں نے اپنے اپنے اوزاراٹھائے ہوئے تھے ،بیلچے کدالیں کلہاڑیاں، ایک لوہار نے بڑا سا ہتھوڑا اٹھایا ہوا تھا ہمارے ایک نائی پڑوسی نے استرا ہاتھ میں لے رکھا تھا ، آتشیں ہتھیار دوچار لوگوں کے پاس تھے وہ بھی ایک گولی والے، دیسی پستول وغیرہ دونالی بندوق صرف ایک شخص کے پاس تھی جو گاؤں کامشہور بدمعاش تھا۔
ہجوم قصبے کی طرف روانہ ہو گیا تھا تو بچے بھی ساتھ ہوگئے، میرے خاندان والے تو کھیتوں میں تھے اس لیے میں بھی ساتھ ہوگیا بغیر کچھ سوچے سمجھے ۔بازار پہنچے تو افواہ نکلی، دوسرے دیہات سے بھی اس طرح کے جتھے پہنچ گئے تھے اورلوگ جگہ جگہ کھڑے باتیں کررہے تھے، کچھ لوگ ہندؤوں کی لٹی ہوئی دکانوں کو دوبارہ سہ بارہ لوٹ رہے تھے ،دروازوں کھڑکیوں کے تختے اکھاڑ رہے تھے کہ اتنے میں بھگدڑسی مچ گئی ، لوگ ایک طرف بھاگنے لگے میں بھی پیچھے پیچھے دوڑپڑا ایک جگہ ہجوم ہورہا تھا اچانک سمجھ میں آیا کہ یہ تو ڈاکٹر اتم سنگھ کی دکان کے سامنے سب کچھ ہو رہا ہے، گھس گھسا کر آگے پہنچا۔تو دیکھا کہ ڈاکٹر اتم سنگھ گلے میں اسٹسکوپ ڈالے ہوئے دکان کے دروازے سے نکلا وہ شاید اس غلط فہمی میں تھا کہ کسی مریض کامعاملہ ہوگا لیکن جیسے ہی وہ دکان کی سیڑھیوں سے اترا ایک دھماکہ ہوا اس نے اپناسینہ پکڑلیا۔ میرے گاؤں والے بدمعاش کی دونالی سے دھواں نکل رہا تھا ، اتنے میں اچانک گھر کے اندر سے منجی نکلی سفید براق کپڑوں میں وہ ایک پری نظر آرہی تھی ہاتھ آٹے میں لتھڑے ہوئے تھے شاید آٹا ،گوندھتے ہوئے اٹھ آئی تھی وہ ایک دم دوڑ کر اپنے تڑپتے ہوئے شوہر کی طرف چلی لیکن پہنچ نہیں پائی ایک اوردھماکہ ہوا اوروہ اپنا سینہ پکڑے ہوئے شوہر کے اوپر گری ، اس کے بعد تو جیسے ہجوم پاگل ہو گیا جس کے ہاتھ جو کچھ آیا وہ مارنے لگے ، تھوڑی دیر تک پھر ہجوم میں وہ نظروں سے اوجھل ہوگئے ہجوم چھٹ گیا تو وہ خون میں لت پت نظر آئیں ۔
اس کے بعد مجھے اورکچھ بھی پتہ نہیں کیوں کہ میں بے ہوش ہوکر گرپڑا تھا کچھ پہچاننے والے مجھے اٹھا کر گھر لائے تھے آنکھیں کھلیں تو اپنے گھر میں بستر پر تھا اوراردگرد خاندان والے کھڑے تھے میں جانبر تو ہوگیا لیکن قطعی بدل گیا ، انتہائی ڈرپوک ، اوربزدل ہرچیز سے ڈرنے والا ۔ کافی عرصے کے بعد پتہ چلا کہ ردارے کا خاندان جالندھر کے کسی گاؤں میں ہے لیکن ردارے وہاں نہیں تھا کیوں کہ وہ پاگل ہو کر کہیں گم ہوگیا تھا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اورمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بزدل ڈرپوک اورخوفزدہ بن گیا۔