صحافی ڈیوڈ انریچ کی دو منتخب کتب

ڈیوڈ انریچ(David Enrich) امریکا کے ایک عالمی شہرت یافتہ انویسٹی گیٹو جرنلسٹ ہیں۔ان کا پورا کیریئر طاقتور اداروں اور مالیاتی نظام کی چھان بین پر مبنی رہا ہے۔



ڈیوڈ انریچ(David Enrich) امریکا کے ایک عالمی شہرت یافتہ انویسٹی گیٹو جرنلسٹ ہیں۔ان کا پورا کیریئر طاقتور اداروں اور مالیاتی نظام کی چھان بین پر مبنی رہا ہے۔یہ نیو یارک ٹائم میں بزنس انویسٹی گیشن ایڈیٹر بھی ہیں جب کہ اس سے قبل وہ’’دی وال اسٹریٹ جنرل‘‘سے بھی وابستہ رہے۔ ان کے خاص موضوعات میں بینکنگ اسکینڈلز، کارپوریٹ کرپشن اور سیاسی و مالیاتی طاقت جیسے موضوعات شامل رہے ہیں۔ان کی کئی کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں سے ایک ’’ ڈارک ٹاورز‘‘ اور’’مرڈر دی ٹرتھ‘‘ خاصی نمایاں اور اہم کتابیں ہیں۔

 یہ طاقتور لوگوں اور اداروں کو بے نقاب کرنے والے صحافی کے طور پر جانے جاتے ہیں، چنانچہ ان کی لکھی گئی کتابیں ہمارے صحافت کے طلبہ کے لیے بھی نہایت اہمیت کی حامل ہیں ، خاص کر صحافت کے ایسے طلبہ جو رپورٹنگ اور خاص کر انویسٹی گیٹو رپورٹنگ میں دلچسپی رکھتے ہوں اور اس میں اپنا نام بنانا چاہتے ہوں۔ ویسے پاکستان جیسے ملک میں انویسٹی گیٹو رپورٹنگ کرنا خاصہ مشکل کام ہے کیونکہ اس میں خطرات بہت زیادہ ہیں۔ ہمارے سامنے کئی نام ایسے ہیں کہ جنھوں نے انویسٹی گیٹو رپورٹنگ نہایت ایمانداری اور محنت سے کی مگر وہ قتل کردیے گئے۔

بہر کیف انھوں نے اپنی کتاب ’’ڈارک ٹاورز‘‘ میں ایک مخصوص بینک کی کہانی کے ذریعے عالمی مالیاتی نظام کی خامیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ جس میں انھوں نے انکشاف کیا ہے کہ صرف بینکنگ سروس جو کہ بینک کا کام ہوتا ہے، اس کے ذریعے درحقیقت عالمی سیاست کرپشن اور طاقت کے کھیل میں کیا کچھ کیا جا سکتا ہے۔انھوں نے اس میں ثابت کیا ہے کہ بڑے بینک صرف مالیاتی ادارے نہیں بلکہ سیاسی اور عالمی طاقت کے مراکز بھی ہوتے ہیں۔

اس سلسلے میں انھوں نے ٹیسٹ کے طورپر ڈوئچے بینک (Deutsche Bank)کے کردار کو سامنے تفصیلی پیش کیا ہے جس میں بتایا ہے کہ اس بینک نے کس طرح سے ڈونلڈ ٹرمپ کو قرض دیا اور روسی منی لانڈرنگ اسکینڈل میں بھی کس طرح کردار ادا کیا، نیز اس ضمن میں کس طرح بینک کو بھاری جرمانے اور عالمی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مصنف نے اس کتاب میں بینک کے اندر ہونے والی بدانتظامی، اخلاقی کمزوریوں اور قوانین کی خلاف ورزیوں کا تفصیل سے تذکرہ کیا، نشاندہی کی اور یہ بتایا کہ منافع کو کس طرح اخلاقیات پہ ہمیشہ ترجیح دی گئی۔ اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ ایماندار ملازمین کے مشوروں کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا۔

 صحافی ڈیوڈ انریچ کے مطابق میڈیا اکثر ایسے مالیاتی اسکینڈلز کو بے نقاب تو کر دیتا ہے مگر مالیاتی نظام کی پیچیدگیاں اس قدر ہوتی ہیں کہ وجوہات کہیں چھپ جاتی ہے، یعنی میڈیا کے ذریعے اس کا وہ اثر اور نتیجہ نہیں نکلتا ، جس قدر نکلنا چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ مالیاتی کرپشن صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ گلوبل نیٹ ورک ہے۔

 ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے بھی اس کتاب میں انکشافات ہیں۔ نوے کی دہائی میں ٹرمپ کے کئی بڑے کاروبار خاص طور پر’’کیسینوز‘‘ مالی بحران کا شکار ہوئے، تو ٹرمپ نے مختلف بینکوں سے قرضوں کے لیے رجوع کیا۔امریکی بینکوں نے انھیں ہائی رسک کلائنٹ قرار دے کے قرضہ دینا تقریباً بند کر دیا لیکن اس مرحلے پر ٹرمپ کو مذکورہ بینک نے قرض دینا شروع کر دیا اور سیکڑوں ملین سے لے کر اربوں ڈالر تک کے مختلف پروجیکٹس کے لیے قرضے دیے۔

اس مسئلے پر بینک کے ملازمین میں بہت اختلاف بھی تھا مگر پھر بھی ٹرمپ کو قرضہ دیا گیا۔ مصنف کے مطابق مذکورہ بینک کے ساتھ ٹرمپ کے غیر معمولی تعلقات تھے جس پر بینک کے اندر بھی اختلاف تھا۔ بینک کے ایماندار ملازمین کے مشوروں کو نظر انداز کیا گیا ٹرمپ کی مخالفت کرنے پر بینک ملازمین کے کیریئر خطرے میں پڑ گئے۔ بینک میں ایک خوف کا کلچر تھا۔

ڈیوڈ انریچ(David Enrich) کی دوسری کتاب Murder the truthایک تحقیقی قسم کی کتاب ہے ،جو میڈیا کو دبانے کے جدید طریقوں اور طاقتور طبقات کے کردار اور قانونی نظام کے غلط استعمال کو تفصیل سے بے نقاب کرتی ہے۔ صحافی ڈیوڈ نے اس کتاب میں بتانے کی کوشش کی ہے کہ موجودہ دور میں سچ کو دبانے کے لیے براہ راست سنسر شپ کا سہارا نہیں لیا جاتا بلکہ قانونی، مالی اور سیاسی دباؤ کو استعمال کیا جاتا ہے۔

صحافی ڈیوڈ لکھتا ہے کہ میڈیا کے حوالے سے ایک منظم کوآرڈینیٹڈ (coordinated)مہم چل رہی ہے جس کا مقصد صحافیوں، میڈیا کے اداروں اور ناقدین کو خاموش کرنا ہے۔ مصنف نے انکشاف کیا ہے کہ طاقتور لوگ ڈیفیمشن (ہتک عزت) کے مقدمات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن ان کا مقصد انصاف حاصل کرنا نہیں بلکہ صحافیوں کو ڈرانا اورمالی طور پر کمزور کرنا ہوتا ہے ،جس کے نتیجے میں چھوٹے اخبارات اور صحافی، مہنگے مقدمات کی وجہ سے دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ جاتے ہیں،یوں بعض اوقات صرف مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی ہی خبر روک دینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔

 مصنف کا خیال ہے کہ بڑے بڑے سیاستدان ارب پتی شخصیات اور بڑے ادارے میڈیا پر دباؤ ڈالنے میں شامل ہیں اور یہ میڈیا کے خلاف مقدمات لڑنے میں مہارت رکھتے ہیں، یہ ایک پاور نیٹ ورک ہے۔جس میں سیاست دان، ججز،امیر سرمایہ کار اور کارپوریٹ مفادات کے علاوہ خوف کا ماحول بھی شامل ہے۔

اس ضمن میں مصنف نے ایک اصطلاح،chilling effectاستعمال کی ہے، جس کا مطلب ہے ایک ایسا ماحول جہاں صحافی خود ہی حساس موضوعات پر لکھنے سے گریز کریں اور میڈیا ادارے خطرناک سچ سے دور رہیں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں ہزاروں مقامی اخبارات بند ہو چکے ہیں یوں تحقیقاتی جرنلزم کم ہو رہی ہے ،البتہ فیک نیوز اور مس انفارمیشن بڑھ رہی ہے۔

 مصنف کے خیال میں جو حربے پہلے آمریتوں میں استعمال ہوتے تھے ،اب وہ جمہوری ممالک میں بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ صحافی ڈیوڈ اسے قانونی طریقے سے آزادی کو محدود کرنا قرار دیتا ہے۔ ڈیوڈ کے مطابق اس رجحان سے صحافت دن بدن کمزور ہو رہی ہے اور مزید کمزور ہوگی، اس کے نتیجے میں عوام کو درست معلومات نہیں ملیں گی اور جمہوریت بھی متاثر ہوگی۔امریکی صحافی کی یہ دونوں کتب ان کی انویسٹی گیٹو رپورٹنگ کوششوں کا نتیجہ ہے یعنی انھوں نے جو کچھ دیکھا اس کی تحقیق کی،اس کو قلم بند کر دیااور حقائق لوگوں تک پہنچا دیے۔

  ان حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ بیرونی ممالک خواہ وہ کتنے ہی ترقی یافتہ اور ماڈرن ہوں، کرپشن، بدعنوانی بلاشبہ اخلاقیات اور قانون پر حاوی ہے اور یہ سلسلہ بین الاقوامی سطح پر پھیلا ہوا ہے۔جب ٹرمپ جیسے لوگ بھی پیسے کی طاقت اور بل بوتے پر اپنے تمام جائز ناجائز کام کروا لیتے ہوں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بینکنگ جیسے نظام کو جسے ہم بہت مضبوط سمجھتے ہیں کرپشن کے آگے کس قدر کمزور ہے جب کہ میڈیا جس کی آزادی کی باتیں دنیا بھر میں کی جاتی اور خاص کر تمام ترقی یافتہ ممالک جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے ہاں صحافت قطعی آزاد ہے، یہ دعوے کس قدر کمزور اور جھوٹے ہیں۔

مذکورہ صحافی نے اپنی تحریر میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ بینک میں ہونے والی اس بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف میڈیا کی آواز موثر نہیں، میڈیا جو آواز اٹھا تا ہے وہ بھی اثر نہیں رکھتی۔ بہر کیف ڈیوڈ انریچ نے بطور صحافی اور بطور مصنف دنیا کو بتانے کی کوشش کی ہے کہ بینکنگ کا نظام بھی عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور کرپشن مختلف شکلوں میں موجود ہے اور میڈیا بھی اپنا صحافتی حق ادا کرنے سے قاصر ہے۔