وفاق اور صوبائی عدم تعاون

صوبہ کے پی کے میں پی ٹی آئی کے چوتھے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاق کا یہی رویہ رہا تو وفاقی حکومت سے تعاون ختم کر دیا جائے گا۔


[email protected]

صوبہ کے پی کے میں پی ٹی آئی کے چوتھے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاق کا یہی رویہ رہا تو وفاقی حکومت سے تعاون ختم کر دیا جائے گا۔ انھوں نے الزام لگایا کہ تحریک انصاف کے وزیر اعلیٰ کو دوسرے درجے کا شہری سمجھ کر ان پر مسلسل ظلم کرکے پاکستان کے حالات خراب کیے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم وفاق سے تعاون ختم اور رابطوں کا بائیکاٹ کریں گے۔

انھوں نے صوبے میں سی این جی کی بندش پر یہ مسئلہ ایس این جی پی ایل کے ساتھ اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بات نہیں سنی جاتی۔ سندھ حکومت کو بھی شکایت ہے کہ وفاقی حکومت سندھ کو نظرانداز کر رہی ہے اور سکھر حیدرآباد موٹروے کی تعمیر پر اتنی توجہ نہیں دی جا رہی جتنی ماضی میں پنجاب اور کے پی میں موٹروے بنانے پر توجہ دی گئی اور عدم توجہی کی وجہ سے حیدرآباد اور سکھر کے درمیان موٹروے کی تعمیر ہی نہیں کی جا رہی جس کی وجہ سے ٹریفک میں دشواری کا سامنا ہے اور پنجاب و کے پی سے کراچی آنے والی گڈز اور پبلک ٹرانسپورٹ کا سارا زور نیشنل ہائی وے پر ہے جہاں بھی متعدد جگہوں پر سڑک خراب ہے اور آمد و رفت بھی متاثر اور تاخیر کا شکار ہے جس کا واحد حل سکھر حیدرآباد موٹروے کی تعمیر ہے، اس لیے یہ ضروری تعمیر جلد شروع کرائی جائے۔

سکھر و حیدرآباد موٹروے کی فوری تعمیر واقعی ضروری ہے مگر یہ بھی درست ہے کہ سندھ کی مبینہ کرپشن کی مشہوری میں موٹروے کی تعمیر کے لیے حاصل کی جانے والی زمینوں کی خریداری میں ضلع مٹیاری میں ہونے والی کرپشن بھی کئی سال قبل منظر عام پر آ چکی ہے جس میں نیچے سے اوپر کی سطح پر اس کرپشن میں مٹیاری کے متعلقہ افسران ملوث پائے گئے تھے جس کی وجہ سے ابتدائی کام ہی رک گیا تھا۔

یوں تو کرپشن ملک کے دیگر علاقوں میں بھی کم نہیں نہ یہ علاقے شفافیت سے پاک ہیں مگر سندھ میں کرپشن کو مبینہ طور پر عروج پر کہا جاتا ہے جہاں چوتھی بار مسلسل پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جس کا 18 واں سال شروع ہو چکا ہے مگر سندھ میں اندرون سندھ کی اپوزیشن جی ڈی اے ہو یا کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان سمیت دیگر تمام اپوزیشن پارٹیاں سندھ میں مبینہ کرپشن کے مسلسل الزامات لگاتی آ رہی ہیں اور سندھ میں گڈ گورننس نہ ہونے کی باتیں بھی عام ہیں۔

 اپریل 2022 سے 2023 کے آخر تک پی ڈی ایم کی 16 ماہ کی حکومت میں پیپلز پارٹی کی بھرپور شرکت تھی جس میں وزارت مواصلات جے یو آئی کے پاس تھی جس کے وزیر نے کے پی کے اپنے اضلاع میں سڑکوں کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی تھی مگر پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو وزیر خارجہ بن کر اپنے بیرون ممالک کے دوروں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے اور پی ڈی ایم کابینہ میں تھوک کے حساب سے وزیر، مشیر، معاونین خصوصی شامل کیے گئے تھے اور سندھ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیروں کو جن میں سکھر سے پیپلز پارٹی کے نمائندے بھی شامل تھے سکھر حیدرآباد موٹروے یاد نہیں آئی تھی جب کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی مگر 2008 سے 2026 تک سندھ میں پی پی کی حکومت نے وفاق کے ساتھ وہ رویہ اختیار نہیں کیا تھا جو 2008 سے 2018 تک اور بعد میں 2024 سے 2026 تک پی ٹی آئی کی، کے پی حکومتوں کا وفاق کے ساتھ رہا اور وہاں کی تحریک انصاف حکومتوں کے وزرائے اعلیٰ نے اسلام آباد پر چڑھائی سے بھی گریز نہیں کیا تھا۔

کے پی کے نوجوان وزیر اعلیٰ تو لائے ہی وفاق سے مزاحمت کے لیے تھے جس پر روز اول سے عمل پیرا ہیں اور انھوں نے وفاق سے اس طرح تعاون نہیں کیا جس طرح ماضی میں پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے کے پی کے سابق وزرائے اعلیٰ پرویز خٹک اور علی امین گنڈاپور کرتے رہے۔ دونوں نے ایک حد تک اسلام آباد پر چڑھائی بھی کی مگر اپنے صوبے کے حقوق کے حصول کے لیے دونوں نے وفاق سے تعلقات اتنے نہیں بگاڑے تھے جتنے موجودہ وزیر اعلیٰ نے بگاڑے کیونکہ ماضی کے دونوں وزرائے اعلیٰ نے پی ٹی آئی کی پالیسی پر عمل بھی کیا مگر دونوں نے وفاق میں مخالف حکومتوں سے کے پی کو ایک حد میں رکھا مگر ان کے برعکس موجودہ وزیر اعلیٰ نے تو عشق عمران میں عہدہ سنبھالتے ہی وفاق کو دھمکانا شروع کر دیا تھا جب کہ انھیں معلوم تھا کہ موجودہ وفاقی حکومت دو ہزار بائیس تئیس والی اسلام آباد تک محدود حکومت نہیں ہے بلکہ آج سندھ، پنجاب و بلوچستان میں وفاق کی اتحادی حکومتیں قائم ہیں۔

18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو جو مالی و انتظامی اختیارات حاصل ہوئے، اس کے نتیجے میں صوبے وفاق سے زیادہ مالی وسائل کے حامل ہیں اور ان کے مقابلے میں وفاق مالی طور پر کمزور اور صوبوں کا محتاج بنا ہوا ہے جسے ملک کے دفاع پر خاصی توجہ دینا ہے۔

وفاق کے پاس اہم محکمے بھی ہیں مگر ان وفاقی محکموں کے پاس 18 ویں ترمیم سے قبل کے مالی اختیار نہیں ہیں اور وہ اپنے اخراجات کم نہیں کر رہا تاکہ مالی طور پر مستحکم ہو اور وہ وفاقی ذمے داری پوری کرے جو آئین کے مطابق اس کی ذمے داری بنتی ہے۔ صوبے اب بھی وفاق کو آنکھیں دکھا کر اپنے آئینی حقوق نہیں لے پا رہے تو جو صوبوں کی جائز شکایتیں ہیں وہ وفاق کو دور کرنے پر توجہ دینی چاہیے مگر وفاق ایسا نہیں کر رہا اور اس کا سارا زور مہنگائی بڑھانے پر ہے تو صوبوں کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے صوبوں میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنائیں اور مہنگائی پر کنٹرول کی اپنی آئینی ذمے داری پوری کریں جو سندھ، کے پی و بلوچستان حکومتیں پنجاب کے مقابلے میں پوری نہیں کر رہیں اور ان حکومتوں میں عوام زیادہ پریشان ہیں۔