معیشت کا دکھ، دال کم اورچائے کا سکون

غریب آدمی کو مہنگائی کے اس دور میں اس حساب سے گزرنا پڑتا ہے جو وہ اپنے بڑھتے ہوئے خرچے اور بے سکونی کو سکون میں بدلنے کے لیے بقا کا حساب سیکھ لیتا ہے۔



غریب آدمی کو مہنگائی کے اس دور میں اس حساب سے گزرنا پڑتا ہے جو وہ اپنے بڑھتے ہوئے خرچے اور بے سکونی کو سکون میں بدلنے کے لیے بقا کا حساب سیکھ لیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ روٹی کے ساتھ دال میں پانی بڑھا دیا جائے تو بھی بچے روٹی کو دال کے پانی میں روٹی کو کشتی بنا کر ہنستے کھیلتے ہوئے کھانا کھا لیتے ہیں۔

دن بھر مزدوری کرنے والا شخص شام کو گھر لوٹتا ہے تو شاید اس کے ہاتھ میں چھٹانک بھر دال کی پڑیا اور پتی کا ایک ساشے بھی ہو سکتا ہے، لہٰذا وہ ایک تدبیر کرتا ہے مہنگی دال کی خریداری میں 20 فی صد کمی کر دیتا ہے اور اپنے سکون کی خاطر 5 فی صد پتی کی خرید میں اضافہ کر دیتا ہوگا۔ اعداد و شمار کے حساب کتاب میں جب درآمدات کو فی صد میں تولا جاتا ہے تو پی بی ایس نے دال اور پتی کی درآمد کو یوں بیان کیا۔ مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں دال کی درآمد میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20 فی صد کمی واقع ہوئی ہے جب کہ چائے کی درآمد میں 5 فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سال دالوں کی مجموعی درآمدات 892 ملین ڈالرز کی ہوئیں اور چائے کی درآمد پر 470.60 ملین ڈالرز کا زرمبادلہ خرچ ہوا جو گزشتہ مالی سال کے اسی مدت کے مقابلے میں 5.01 فی صد زیادہ ہے۔

دن بھر کی مزدوری کرنے والا شخص جب شام کو لوٹتا ہے تو اس کے چہرے پر تھکن سے زیادہ فکر ہوتی ہے، اس کے بچوں کی آنکھوں میں سوال ہوتا ہے کہ آج کیا پکے گا، اس کے پاس جواب نہیں ایک تدبیر ہوتی ہے۔ وہ شاید بیوی سے کہتا ہوگا کہ دال کم ہے (پہلے کے مقابلے میں 20 فی صد کم) پانی ذرا زیادہ ڈال دینا اور چائے تھوڑی سی زیادہ (شاید 5 فی صد زیادہ) ڈال کر کڑک چائے بنانا۔ چائے کا کپ ہاتھ میں آتا ہے، گرم کڑک تلخ وہ ایک گھونٹ لیتا ہوگا اور اس کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کچھ لمحوں کے لیے رک جاتی ہوگی۔ یہ چائے صرف مشروب نہیں بلکہ یہ ایک نفسیاتی سہارا بھی ہے۔ اس میں کیفین سے زیادہ امید ہوتی ہے اور تلخی سے زیادہ تسلی۔

ہو سکتا ہے یہ کہانی پاکستان کے غریب گھرانوں میں صورتیں بدل کر نظر آتی ہو لیکن بات یہ ہے کہ جہاں مہنگائی نے انسان کو اس کی بنیادی ضروریات کی خرید سے روک دیا ہے، یہ کہانی دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں سب سے زیادہ نظر آتی ہے۔ چاہے لاطینی امریکا کی کچی آبادیوں میں ہو یا افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں ہو۔ ہر جگہ کچھ ایسا ہی نظر آتا ہے۔ کہیں پانی میں ابلی ہوئی سبزیاں، کہیں آٹے کی کمی، کہیں چینی کا قحط بس غریب عوام نے بھوک کو بہلانے کا بہانہ تلاش کر لیا ہے۔ معاشیات میں اسے ’’کھپت کی ایڈجسٹمنٹ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ دال کم اور پانی زیادہ، چائے کی پتی میں معمولی مقدار میں اضافہ اور کڑک چائے جو سکون بھی دیتی ہے اور غربت کا غم بھلا کر اس کا مقابلہ کرنا سکھا دیتی ہے۔

ایک ماں جب اپنے بچوں کو کم دال کھلاتی ہے تو اسے معلوم ہے اس میں کم غذائیت ملے گی۔ ساتھ پانی کا شوربا بڑھا کر کہتی ہوگی ’’دیکھو !آج سالن زیادہ ہے تم چاہو تو روٹی کی کشتیاں بنا کر آپس میں مقابلہ کر سکتے ہو ‘‘اور سب بھائی بہن ہنستے کھیلتے روٹی کی کشتی بنا بنا کر دال کا شکار کرتے ہیں اور خوش ہوتے رہتے ہیں۔ یوں ایک ماں بچوں کی بھوک کو صرف جسمانی نہیں بلکہ جذباتی طور پر بھی سنبھالتی ہے اور پھر وہی ماں رات کو ایک کپ کڑک چائے پی کر بغیر دال روٹی کھائے سو جاتی ہے۔ اس کے لیے چائے کھانے کا متبادل نہیں مگر ایک سکون ہے، ایک وقفہ ہے۔ اسی سکون کی تلاش میں غربت کے مارے ہوئے ہوٹلوں میں بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لے رہے ہوتے ہیں اور مہنگی دال خریدنے سے گریز کرتے ہوئے یا دالوں کی خریداری میں کمی کر دیتے ہیں۔

عالمی منظرنامے میں اگر آج کے حالات دیکھے جائیں تو تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نئے ہفتے کے آغاز کے ساتھ 107 ڈالر فی بیرل پٹرول کی قیمت ہو چکی ہے۔ جنگیں اور موسمیاتی تبدیلیوں نے مل کر اس بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔

یوکرین کی جنگ نے گندم کی قیمت کو متاثر کیا، امریکا ایران کشیدگی نے تیل کی قیمت کو زیادہ بڑھاوا دیا اور موسمیاتی تبدیلی نے فصلوں کو کہیں برباد کر دیا یا کہیں پیداوار میں کمی ہو گئی۔ جب پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو غریب کی دال کی قیمت بڑھ جاتی ہے وہ اس کی خریداری میں کمی کر دیتا ہے، پھر یہ سارے مسئلے مسائل فکر اندیشے غریب کی چائے کی پیالی میں سمٹ آتے ہیں جسے وہ اپنے سکون کی خاطر پیتا رہتا ہے اور اس کی چائے کی پیالی بھری رہتی ہے کیونکہ معیشت کا دکھ یہی پیالی اس کے ساتھ بانٹ لیتی ہے اور بھوکا رہ کر بھی چائے میں اسے سکون مل ہی جاتا ہے۔