اسرائیل کی بحریہ نے غزہ امداد لے جانے والی 20 کشتیوں کو بین الاقوامی پانیوں میں یونان کے قریب روک کر اس میں سوار 175 رضاکاروں کو حراست میں لے لیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امدادی قافلے کے منتظمین نے بتایا کہ ان کا مقصد غزہ تک خوراک، ادویات اور دیگر ضروری امداد پہنچانا اور اسرائیلی پابندیوں کو چیلنج کرنا تھا۔
منتظمین کے بقول اسرائیلی فورسز نے امدادی قافلے کو بین الاقوامی پانیوں میں یونان کے قریب روکا جس پر قانونی اور سفارتی سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔
اس قافلے میں برطانیہ، فرانس، اسپین، یونان اور ترکیہ سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے رضاکار شامل ہیں۔ کشیتیوں پر خوراک، ادویات، طبی سامان، حفظانِ صحت کی اشیاء، طبی آلات اور کھاد لدی تھیں۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ملکی بحریہ نے غزہ کی طرف جانے والے امدادی قافلے میں شامل 20 سے زائد کشتیوں کو روک کر تقریباً 175 کارکنوں کو تحویل میں لے لیا جنھیں اب پُرامن طریقے سے اسرائیل منتقل کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ غزہ پر 2023 سے مسلط کی گئی اسرائیلی جنگ میں ایک لاکھ سے زائد فلسطینی شہید، دو لاکھ کے قریب زخمی جب کہ 10 لاکھ سے زائد افراد گھر، صحت اور خوراک سے محروم ہیں۔
اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑ کر غزہ تک بحری راستے سے امداد پہنچانے کی کوششیں نئی نہیں ہیں۔ 2010 میں ترکیہ سے آنے والی امدادی بیڑے ’’غزہ فریڈم فوٹیلا‘‘ پر اسرائیلی کمانڈوز نے حملہ کردیا تھا جس میں 10 رضاکار شہید ہوگئے تھے۔
جس کے بعد 2015 سے 2018 کے درمیان مختلف چھوٹے فلوٹیلا مشنز اور کئی بین الاقوامی رضاکاروں نے غزہ تک پہنچنے کی کوشش کی تاہم اکثر کشتیوں کو راستے میں روک لیا گیا۔
غزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے ناکہ بندی مزید سخت کردی جس کے باعث 2023 سے 2025 کے دوران بھی کئی امدادی قافلوں کو روکا گیا تھا جس میں عالمی شہرت یافتہ انسانی حقوق کے کارکنان کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔