کشمیر کے کچھ لوگوں کے لیے گزشتہ ہفتے کا دن قیامت کا دن تھا۔ دریائے نیلم کے ایک طرف ایک کشمیری کی میت رکھی گئی تھی اور دریائے نیلم کی دوسری طرف کشمیری لیاقت علی خان کے والد ،بھائی اور قریبی رشتے دار اپنے پیارے کا دور سے دیدار کرنے پر مجبور تھے۔ تدفین کا وقت شام 6بجے کا تھا۔
جہاں میت رکھی گئی تھی وہاں دریائے نیلم کا پاٹ چھوٹا تھا، یوں دوسری طرف کھڑے رشتے دار دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے مگر وہ دریا پار کر کے دوسری طرف جانے کی کوشش نہیں کر سکتے تھے کیونکہ موت یا قیدوبند کی صعوبتیں ان کی منتظر ہوتیں۔ پاکستان اور بھارت کے مقامی کمانڈروں نے اس شام خاصی نرمی کا مظاہرہ کیا، کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہوا۔ جب نمازِ جنازہ کے بعد میت کا دیدار کرنے کے لیے میت کے کفن کا کپڑا اٹھایا گیا تو کنٹرول لائن کے دونوں اطراف سے آہ و بکا کی آوازیں دریائے نیلم کے پانی کے شور کو مدھم کررہی تھیں۔ مرحوم لیاقت علی خان کے خاندان کا تعلق مقبوضہ کشمیر کی تحصیل کپواڑہ کے گاؤں کیرن سے ہے۔
90ء کی دہائی میں کشمیری حریت پسند جنگجوؤں کے خلاف بھارتی فوج نے کشمیر بھر میں آپریشن کیا تھا تو بھارتی فوج کے اہلکار انسانی حقوق کی پامالی کی بہت سی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ اس وقت بہت سے خاندان لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان کے زیرکنٹرول علاقے میں آباد ہوگئے تھے۔ ان ہجرت کرنے والوں میں لیاقت علی خان کے والد راجہ اطہر خان بھی شامل تھے۔ اطہر خان اپنے دو بیویوں اور 11 بچوں کو ساتھ لائے مگر ان کی تیسری بیوی اور ایک بیٹا لیاقت علی خان اپنے آبائی علاقے میں رک گئے تھے۔ لیاقت علی خان کی تربیت ان کے چچا راجہ شرافت علی خان نے کی تھی۔ راجہ لیاقت علی خان ایک ریٹائرڈ ایڈیشنل ڈپٹی کمیشنر ہیں۔
لیاقت علی خان نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد محکمہ ریونیو میں ملازمت کرلی۔ جب لیاقت علی خان کا انتقال ہوا تو وہ نائب تحصیلدار کے عہدے پر تعینات تھے۔ لیاقت علی خان نے شادی کی اور ان کے چار بچے تھے۔ لیاقت علی خان دل کے عارضہ میں مبتلا ہوئے۔ انھیں سری نگر کے دل کے امراض کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا مگر وہ گزشتہ ہفتے کو زندگی کی جنگ ہار گئے۔ لیاقت علی خان کے خاندان کی خواہش تھی کہ مرحوم کو سری نگر کے بجائے کیرن کے خاندانی قبرستان میں دفن کیا جائے۔
ایک رپورٹ کے مطابق لیاقت علی خان کی موت کی خبر کنٹرول لائن کے اطراف آباد گاؤں تک پہنچ گئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ گزشتہ ہفتے کی سہ پہر تک دریائے نیلم کے دونوں کناروں پر سیکڑوں سوگوار جمع ہوگئے تھے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی وڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوگوار کیرن سے میت کو کندھوں پر اٹھائے کنٹرول لائن کی طرف آئے اور جنازہ دریائے نیلم کے کنارے رک گیا، میت کا کفن اٹھایا گیا۔ دریا کے دوسری طرف کھڑے عزیزوں نے اپنے پیارے کا آخری دیدار کیا۔ لیاقت علی خان کے ایک رشتے دار ظہور احمد نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ مسئلہ یہ تھا کہ ان کے بھائی بہن اس اہم گھڑی میں کسی طرح مرحوم کا چہرہ دیکھیں اور جنازے میں شامل ہوجائیں۔
دریا کے اس پار چاچا جی کے قریبی رشتہ دار ماتم کررہے تھے اور ہم نے اس طرف سے ان کی میت کو دکھانے کے لیے چارپائی کو اونچا اٹھایا تو اس پار کہرام مچ گیا۔ ظہور احمد کا کہنا ہے کہ لیاقت علی کیرن کی معروف شخصیت تھے اور نائب تحصیلدار کے طور پر وہیں تعینات تھے۔ ظہور کے مطابق ان کا خاندان ایل او سی کے پار چلا گیا تو وہ نوکری کی وجہ سے یہیں رک گئے۔ انھیں امید تھی کہ حالات ٹھیک ہوجائیں تو رابطے پھر بحال ہوجائیں گے۔ لیاقت کی بہن شگفتہ بانو کہتی ہیں کہ میرا بھائی دنیا سے رخصت ہوا، میں نہ ماں کے گلے لگ کر روسکی نہ جنازے کے پاس بیٹھ سکی۔ چند میٹر کا فاصلہ تھا مگر دریا کی لہروں نے ہمیں ملنے نہیں دیا۔
راجہ لیاقت کے بھائی نثار خان کہتے ہیں کہ دریا کے اس پار سے بھائی کا جنازہ آرہا تھا اور ہم اس طرف روتے چلے تھے۔ میں اپنے بھائی کو کندھا نہ دے سکا۔ راجہ لیاقت علی خان کے ایک اور بھائی راجہ بشارت کہتے ہیں کہ جب میں چھوٹا تھا اور 1990ء میں نقل مکانی کررہے تھے تو میرے والد اور بہن بھائی اس طرف آئے۔ ہم صرف دریا کے کنارے بیٹھ کر ایک دوسرے کو دیکھتے تھے۔ جب بھائی کی وفات کا سنا تو ہم فوراً کیرن کی طرف روانہ ہوئے۔ ہمیں معلوم تھا کہ ہم جنازہ میں شریک نہیں ہوسکتے مگر وہ کہتے ہیں کہ ایک طرف ماں پتھروں سے سر پھوڑ رہی تھیں تو دوسری طرف بہنیں سر پیٹ رہی تھیں۔
کشمیر کی کل آبادی 15سے 16 ملین ہے جس میں سے 10 ملین افراد مقبوضہ کشمیر میں آباد ہیں۔ اسی طرح 4ملین افراد آزاد کشمیر میں آباد ہیں، کشمیر میںشامل گلگت بلتستان (قدیم زمانہ میں گلگت کشمیر کا حصہ تھا) کی آبادی 1.7 ملین نفوس پر مشتمل ہے۔ کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول 740 کلومیٹر طویل اور 33 کلومیٹر چوڑی ہے۔ اس سرحد کے دونوں طرف لاکھوں لوگ آباد ہیں جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ دریائے نیلم 144 کلومیٹر طویل علاقے سے گزرتا ہے۔ یہ دریا آزاد کشمیر کے جنوبی علاقہ (Northern Most) سے ہوتا ہوا مظفر آباد کے قریب دریائے جہلم میں شامل ہوجاتا ہے۔
کشمیر کا ضلع کپواڑہ کی آبادی 8 لاکھ افراد سے زیادہ ہے جن میں سے 99.59 فیصد مسلمان ہیں۔ یہ مسلمان کنٹرول لائن کے دوسری طرف بھی آباد ہیں۔ کپواڑہ کی تحصیل کیرن کی حساس ترین بستی میں 4ہزار لوگ آباد ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں راجہ لیاقت کے ایک رشتے دار محمد یاسر کہتے ہیں کہ پہلے کنٹرول لائن کی دوسری طرف جانے کے لیے کچھ کراسنگ یونٹ تھے لیکن اس کے لیے ایل او سی میں پرمٹ لینا پڑتا تھا۔ اب یہ کراسنگ یونٹ بند ہیں اور پرمٹ کا عمل نہایت طویل اور پیچیدہ ہے۔ اس عمل میں طویل جانچ پڑتال ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی فرد کے انتقال کی صورت میں زیادہ سے زیادہ 24 گھنٹے انتظار کیا جاسکتا ہے۔ اتنی دیر میں پرمٹ ملنا مشکل ہوتا ہے۔ یاسر کا کہنا ہے کہ کئی برس تک دنوں طرف رہنے والے رشتے دار دریا کے اوپر رسی کے ذریعہ خط بھیجتے تھے۔ اب سوشل میڈیا سے آسانی ہوگئی ہے۔
کشمیر کی 1948ء میں تقسیم کے بعد 65ء کی جنگ تک شہریوں کو کشمیر کے دونوں حصوں میں جانے کی اجازت تھی مگر 65ء کی جنگ کے بعد یہ رابطہ منقطع ہوگیا۔ جب 1971 میں صدر ذوالفقارعلی بھٹو، مسز اندرا گاندھی سے ملاقات کے لیے شملہ گئے تو شملہ معاہدہ کے تحت دونوں حصوں کو تقسیم کرنے والی لائن کو کنٹرل لائن قرار دیا گیا۔ 1990ء کی دہائی سے کنٹرول لائن گرم ہوئی۔ بھارتی فوج بلا اشتعال بھی اندھادھند گولہ باری شروع کردیتی۔ اس گولہ باری سے آزاد کشمیر کے خوبصورت سرحدی علاقوں میں سیاحت ختم ہوئی اور دونوں طرف گولہ باری عام سی بات بن گئی۔ جب صدر پرویز مشرف کشمیر کے معاملے پر مذاکرات کے لیے آگرہ گئے اور وزیر اعظم واجپائی سے مذاکرات کیے تو Cross Border Terrorismکے مسئلے پر معاہدہ نہ ہونے سے یہ مذاکرات ناکام ہوگئے مگر غیر ریاستی ایکٹرز کی مسلسل کارروائیوں کے بعد 2003ء میں صدر مشرف نے بھارت سے ایک معاہدہ پر اتفاق کیا۔
ایک طرف کشمیری حریت پسند جنگجو گروہوں کی کنٹرول لائن پر سرگرمیوں تو دوسری طرف بھارتی فوج کی مسلسل گولہ باری کا سلسلہ رک گیا جس کی بناء پر سری نگر سے مظفر آباد تک بس سروس شروع ہوئی۔ پوری وادی میں زندگی معمول پر آگئی اور بہت سارے سیاح ان علاقوں میں آنے لگے، یوں لوگوں کے روزگار میں بھی اضافہ ہوا، دونوں ممالک کے درمیان ایک جامع معاہدہ کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت اب کشمیریوں کو لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف ڈپٹی کمیشنر کی پرمٹ سے آ نے جانے کی اجازت ہوگئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی سری نگر سے راولپنڈی تک تجارت کے لیے ٹرک چلنے لگے تھے۔
2019ء میں بھارت کی حکومت نے کشمیر کی حیثیت کوتبدیل کردیا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے بھارت کے اس غیر منصفانہ رویہ پر اس سے تمام تعلقات منقطع کردیے، یوں کشمیریوں کی مشکلات بڑھتی چلی گئیں، اب کشمیریوں کو لائن آف کنٹرول سے دوسری طرف جانے کے لیے واہگہ کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے اور دونوں ملکوں میں جانے کے لیے نئی دہلی اور اسلام آباد سے ویزا حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
کیرن کا سانحہ دونوں حکومتوں کو یاد دلارہا ہے کہ 2003ء کے معاہدے کے تحت کنٹرول لائن پر انٹری پوائنٹ کھول دیے جائیں۔ کشمیری شہریوں کو کشمیر میں آنے جانے کی مکمل اجازت ہو اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ لیاقت علی مرحوم کے لواحقین کے ساتھ جو گزری یہ عمل کہتا ہے کہ دونوں حکومتیں ایسے اقدامات کریں کہ کسی اور کشمیری خاندان کو اس طرح کے تجربہ سے نہ گزرنا پڑے۔