عالمی استحصالی سیاست کا غیر سیاسی تجزیہ

طاقتور ملکوں کا کمزورملکوں کی اقتصادیات پر قبضہ کرنے کی تاریخ بہت زیادہ پرانی ہے


وارث رضا May 03, 2026

دنیا میں سامراجی حکومتوں اور سرمایہ دارانہ ہوسناکیوں کا مزدور دشمن کردار ہر برس ’’یکم مئی‘‘ کو چیخ چیخ کر انسانی محنت کی بے توقیری کو جہاں دنیا کے سامنے لاتا رہتا ہے ،وہیں تاریخ شکاگو کے محنت کشوں پر کیے گئے، ظلم و ستم دنیا کے سامنے نہ صرف لاتی رہتی ہے بلکہ سامراجی سرمائے کے بل بوتے پر دنیا بھر میں طاقت کے نشے میں طاقتور اقوام کمزور اقوام کے وسائل کو ’’جنگ و جدل‘‘ سے ہڑپنے اور ظلم و ستم کی یاد تازہ کراتی رہتی ہے ۔

طاقتور ملکوں کا کمزورملکوں کی اقتصادیات پر قبضہ کرنے کی تاریخ بہت زیادہ پرانی ہے۔ آج کی نشست میں میرا تکلم ان دوستوں اور روشن خیال فکر کے دلدادہ افراد سے ہے جو دنیا کو ’’ہتھیاروں کی دوڑ‘‘ سے دور رکھنے کی بات کرتے ہیں۔

اور درد دل سے چاہتے ہیں کہ دنیا میں سرمایہ دارانہ تسلط اور ہیجان خیزی کی جگہ عوام کی معاشی حالت کو بہتر کرنے کی جنگ کی طرف دنیا کو جایا جائے تاکہ پر امن ماحول میں دنیا کے تمام ممالک اپنی توانائی اور آزادی و سلامتی کو عوام کی اقتصادی صورت حال کو بہتر کرنے پر لگائیں اور عوام کی محنت سے ایک ایسا صنعتی انقلاب برپا کریں ،جو عوام کی معاشی فکر کو کم کر کے، روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کی ضمانت دے۔

اور وہاں کی حکومتیں عوام کو بنیادی صحت و تعلیم کی مفت سہولیات فراہم کرنے کی ریاستی ذمے داری نبھائیں تاکہ دنیا کے عوامی رشتے پر امن بقائے باہمی کے ساتھ معاشی بہتری کے لیے آپس میں مضبوطی سے جڑے رہیں۔

امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ جنگی اتحاد کے ذریعے فروری 2026 میں مذاکرات کے دوران ایران پر فوجی پیش قدمی یا حملہ دنیا کی جنگی تاریخ میں کوئی نیا دھوکا یا واقعہ نہیں ،جنگ عظیم دوم اور اس کے بعد دنیا کی کمزور معیشتوں کو ہڑپنے یا انھیں اپنے زیر تسلط لانے میں امریکا آج کے جدید دور میں بھی طاقت کے نشے میں ہتھیاروں کے سرمایہ داروں کے ذریعے سرمایہ داری کو بزور طاقت نافذ کرنا چاہتا ہے۔

جس کی مثال فلسطین کے غزہ میں اسرائیلی بر بریت اور معصوم بچوں کا قتل اور اب اسرائیل اور لوٹ کھسوٹ کی سرمایہ دارانہ ڈوبتی ہوئی امریکی معیشت کا سب سے بڑا ہدف ایران کی آڑ میں چین اور مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک نظر آتے ہیں۔

امریکی مفادات میں دنیا کو تباہ کرنے اور اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی امریکا کی یہ کوئی نئی حرکت نہیں ۔امریکی مفادات کے حصول میں ’’پینٹاگون اشرافیہ‘‘ کے نزدیک اس بات کی بھی کوئی اہمیت نہیں کی۔

امریکی صدر ری پبلکن ہے یا ڈیموکریٹ، امریکی پینٹاگون اپنے سرمایہ دارانہ ہدف کے لیے دنیا میں کچھ بھی کر سکتا ہے، کیا پوری دنیا اس حقیقت سے واقف نہیں کہ جنگ عظیم دوم کے دوران جرمن اور جاپان سے شکست کھانے کے قریب امریکا نے روس کے جوزف اسٹالن سے اتحادی ہونے کی نہ صرف پاسداری نہ کی بلکہ اسٹالن کے علم میں لائے بغیر ایٹم بم بنایا اور امریکا کے ڈیموکریٹ صدر ہیری ٹرومین نے جنگ کے بنیادی اصول کو توڑتے ہوئے جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے اور یوں جاپان کی قوت کو ختم کیا گیا۔

شکاگو میں 1886کے دوران مزدوروں سے 16گھنٹے بیگار لینے کا معاملہ ہو یا مزدوروں کی اپنی محنت کے حق مانگنے کا واقعہ ہو، امریکا کے عوام اور محنت دشمن قیادت لوٹ کھسوٹ کے سرمایہ دارانہ نظام کو بچانے کے لیے نہ صرف قتل و خون اور بر بریت میں مصروف رہی ہے۔

بلکہ ملکوں کی سیاست و اقتصادیات میں اپنے مہرے داخل کرکے ترقی پذیر ممالک کو زیر تسلط لاتی رہی ہے، جس کے لیے امریکی پالیسیوں کے تحت ترقی پذیر ممالک میں مذہبی سیاست کو پروان چڑھایا گیا ، افریقی اور اسلامی بلاک میں مذاہب اور قبیلائی بنیاد پر نکاراگوا، روانڈہ، صومالیہ، افریقی جزائر، افغانستان، لیبیا، عراق، فلسطین، غزہ، مشرق وسطی کے تیل کی لوٹ کھسوٹ اور دنیا بھر میں دہشت گردی کی تنظیموں کو نہ صرف اپنے مفاد میں استعمال کیا بلکہ مذکورہ ممالک میں امریکی مفادات کے لیے سرمائے اور ڈالر کی بنیاد پر القاعدہ، داعش، صومالی جنگجو، طالبان، بی ایل اے اور نہ جانے کتنی تنظیمیں بنائی گئیں اور اب بھی وینزویلا سے لے کر مالی تک میں مختلف دہشت گرد گروپوں کی پشت پناہی میں امریکا اور دیگر سرمایہ دار ملک مصروف عمل ہیں ۔

سرمایہ دارانہ عالمی نظام کے مزدوردشمن منظر نامے میں ہمارے ایسے ترقی پذیر ممالک میں مزدور تحریک یا روشن خیال سوچ کی سیاست کہاں کھڑی ہے اور اب تک کیوں ایک مزدور دوست معیشت کے مطلوبہ ہدف سیاسی یا ٹریڈ یونین کی سطح پر مضبوط و مربوط نہیں ہو پائے ہیں؟

ٹریڈ یونین سیاست یا روشن خیال سماج کی تشکیل میں ایک مضبوط بیانیہ دینے میں آخر کار ہمارے ہاں کی فکر مند تنظیمیں یا گروہ کیوں اب تک ناکام یا تتر بتر سے نظر آتے ہیں۔

یہ آج کے پاکستانی سماج کا وہ اہم سوال ہے جو خاص طور پر70 اور80 کی دہائی میں فوجی جنرل ضیا اور ان سے قبل فوجی آمریتوں نے اس سماج کو سرمایہ دار ممالک کے حکمرانوں کی خوشنودی کے لیے نہ صرف ’’جہادی‘‘ بلکہ غیر سیاسی بنایا اور سماج کو تقسیم کرنے لیے فرقہ پرستوں سے لے کر ان خودساختہ سیاست دانوں کو سماج کا نگراں بنایا ،جو بادی النظر میں سرمایہ دارانہ مفادات کے خلاف نہیں ہو سکتے تھے۔

اور آج سیاست اور مزدوروں کے حقوق پر غور و فکر کرنے والے بوجھل دل کے ساتھ پاکستان کے ’’غیر سیاسی‘‘ بنائے جانے والا عذاب نہ صرف جھیل رہے ہیں بلکہ روشن خیال قوتیں سماج کی ان سیاسی اور نظریاتی قوتوں کو جوڑنے میں ناکام نظر آتی ہیں جو سماج کی نئی نسل کوسیاسی ماحول فراہم کرنے میں سماج کی حقیقتوں کا ادراک رکھتی ہوں ۔

ہمارے سیاسی سماج اور نظریاتی تحاریک کے سماج کو جان بوجھ کر غیر آئینی اور آمرانہ حکمرانوں نے بہت منصوبہ بندی سے غیر سیاسی کیا ،جس میں سب سے بڑی کراچی کی صنعتی مزدور کی روشن خیال سیاسی قوت کو ختم کرنا ٹھہرا گیا۔

جس کے لیے ان غیر سیاسی حکمرانوں نے اپنے مقاصد کے لیے مذہبی اور قوم پرست قوتوں کو اپنا ہمراہی بنا کر سماج میں غیر سیاسی کوششوں اور عمل کو پروان چڑھایا جس میں سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکی اور یورپی این جی اوز نے انسانی اور مزدور حقوق کے نام پر سرمایہ دارانہ فنڈنگ لے کر سماج کو سیاسی کے بجائے ’’اصلاحی‘‘ بنانے کی کوشش کی اور بیشتر این جی اوز کے کرتا دھرتا جنرل پرویز مشرف کے ریفرنڈم میں ان کے ساتھی کے طور پر کام کرتے رہے اور خود پر سے روشن خیالی اور ترقی پسندی کی چادر بھی نہ اتاری۔

یہ پاکستانی سماج کے غیر سیاسی ہونے کا وہ عمومی پہلو ہے جس کو بیشتر دوست نظر انداز کرکے پرانی دوستیاں نبھانے پر غیر سیاسی سوچ کے ساتھ با عمل نظر آتے ہیں، جو کہ ہماری سیاسی سوچ کا ایک افسوسناک اور قابل مذمت پہلو ہے، جس کے پیش نظر ہم اپنی نئی نسل کو غیر سیاسی کرنے کے ذمے دار بھی نظر آتے ہیں۔

سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ جب کمیونسٹوں نے سبط حسن کے توسط سے ’’انقلاب ایران‘‘ ایسی کتاب کے ذریعے تھیوکریسی کا پردہ چاک کیا تھا،۔یہ انقلاب ایران کا وہ دور تھا جب سارے روشن خیال خمینی انقلاب کی حمایت کر رہے تھے مگر ایران کی تودہ پارٹی اور دنیا کی کمیونسٹ فکر’’ انقلاب ایران‘‘ کو ایک رجعتی سیاسی نظام سے تشبیہ دے رہے تھے کیونکہ ظلم و جبر، سرمایہ داری اور ملائیت کا وہ گٹھ جوڑ ہے جسے ’’نظریاتی سیاست‘‘ اپنائے بغیر سمجھنا مشکل عمل ہے۔