ایپسٹین فائلز میں صدر ٹرمپ کا نام ظاہر ہونے کے بعد وہ خود کو بچانے یا دنیا کی توجہ اس سے ہٹانے کے لیے بے حد بے چین تھے کہ نیتن یاہو نے انھیں ایران سے جنگ کرنے کے سلسلے میں اس کی معاونت کرنے کی دعوت دے دی جسے ٹرمپ نے فوراً ہی قبول کر لیا، اس لیے کہ اس جنگ کو طول دے کر وہ نہ صرف دنیا کی توجہ ایپسٹین فائلز سے ہٹا سکتے تھے بلکہ اس ایشو کو بھی چھپا سکتے تھے۔
ایک مہینہ جنگ جاری رہنے کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں جنگ بندی کے بعد مذاکرات شروع ہوئے۔ 12 اپریل کو امن معاہدہ پر دستخط ہو جانا چاہیے تھے کیوں کہ دونوں ممالک کے درمیان تمام ہی نکات پر مفاہمت ہو گئی تھی، صرف ایک یورینیم افزودگی کا معاملہ طے ہونا تھا جو بعد میں بھی طے ہو سکتا تھا۔
پاکستان اپنی ثالثی پر بے حد خوش تھا کہ اس نے ایک بڑے مسئلے کو اپنی ثالثی کے ذریعے حل کے قریب پہنچا دیا ہے مگر ٹھیک اسی وقت صدر ٹرمپ نے فون پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو معاہدے پر دستخط کرنے کے بجائے انھیں واپس وطن آنے کی ہدایت کی اور جب سے لے کر اب تک یہ معاملہ اٹکا ہوا ہے۔
آخر اس معاہدے میں اتنی دیر کیوں لگائی جا رہی ہے جب کہ اس معاملے کی وجہ سے پوری دنیا پریشان ہے، توانائی کا بحران روز بہ روز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جس سے پوری دنیا میں مہنگائی میں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
توانائی کا مسئلہ پہلے تو صرف غریب ممالک کو پریشان کر رہا تھا اب تو امیر ممالک بھی پریشان نظر آتے ہیں اور وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان جلد امن معاہدہ طے پا جائے اور آبنائے ہرمز کا راستہ پہلے کی طرح کھل جائے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ آخر صدر ٹرمپ کو ایران سے جنگ کرنے کی کیا ضرورت تھی، کیوں کہ ایران کسی بھی طرح امریکا کے لیے خطرہ نہیں تھا مگر لگتا ہے کہ ایپسٹین فائلز میں ان کا نام آنے سے وہ اس وقت سخت پریشان تھے اور اس سے راہ فرار کی کوئی صورت تلاش کر رہے تھے کہ نیتن یاہو کی ایران سے جنگ کرنے میں اس کا ساتھ دینے کی دعوت کو انھوں نے فوراً قبول کر لیا۔
صدر ٹرمپ نے ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کا الزام لگا کر اس کے ایٹمی مرکز پر حملہ کر دیا اور اعلان کر دیا کہ انھوں نے اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ اس کے بعد ایران کو مذاکرات کی دعوت دی، اسے مذاکرات میں الجھا دیا اور خود اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران میں رجیم چینج کرانے کے لیے اس پر بھرپور حملے شروع کر دیے، یہ ایران کے ساتھ سراسر دھوکہ تھا۔
امریکی عوام ایران پر امریکی حملوں کے خلاف محو احتجاج ہو گئے، کیوں کہ ان کے نزدیک یہ اسرائیلی جنگ تھی، اس میں امریکا کو کودنے کی کیا ضرورت تھی؟ مگر ٹرمپ اپنے عوام کے احتجاج کو نظرانداز کرکے ایران پر اسرائیل کے ساتھ مل کر حملوں میں مصروف رہے، ان حملوں کے نتیجے میں ایران کے رہبر اعلیٰ امام علی خامنہ ای ہی نہیں، کئی ایرانی اہم شخصیات شہید کر دی گئیں۔
یہ جنگ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہی مگر اس میں ہر محاذ پر ایران کا پلہ بھاری رہا۔ ٹرمپ نے دراصل ایران میں ’’رجیم چینج‘‘ یعنی حکومت کو بدلنے کے نام پر جنگ شروع کی تھی مگر وہ اس میں ذرا بھی کامیاب نہ ہوئے۔ ٹرمپ نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایران پر خوفناک حملے کرتے رہے مگر ایران امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مردانہ وار جواب دیتا رہا۔
ایران نے بھی حملوں میں تیزی دکھائی اور اسرائیل کے ہر شہر میں تباہی مچا دی، ساتھ ہی ایران نے خلیجی ممالک میں واقع فوجی اڈوں کو تباہ و برباد کر دیا۔ اسرائیل میں تباہی سے لوگ اتنے پریشان ہوئے کہ نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے، ادھر امریکا میں بھی ٹرمپ کے خلاف مظاہرے ہونے لگے۔
امریکا میں ٹرمپ کے خلاف ہر شہر میں مظاہرین ٹرمپ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ عوام ایران سے جنگ کرنے کے خلاف تھے کیونکہ وہ اسے اسرائیلی جنگ قرار دیتے ہیں جس میں امریکا کو کودنے کی ضرورت نہیں تھی۔
بالآخر ٹرمپ کو جنگ روکنا پڑی اور مذاکرات شروع کیے گئے۔ مذاکرات اسلام آباد میں منعقد ہوئے جو پاکستان کی ثالثی کا نتیجہ تھے۔
صدر ٹرمپ ان مذاکرات کو چونکہ منطقی انجام تک پہنچانا نہیں چاہتے تھے چنانچہ یہ بے نتیجہ ہی ختم ہو گئے مگر ٹرمپ وقت گزاری کے لیے پھر بھی پاکستانی سفارت کاری کو جاری رکھنے کے لیے گرین سگنل دیتے رہے جس سے دوبارہ مذاکرات کا دروازہ تو کھلا ہوا تھا مگر ٹرمپ کا تو دراصل مقصد ہی کچھ اور تھا۔
اس کے بعد ٹرمپ نے ایران کی بحری ناکہ بندی شروع کر دی جو سراسر ایران کو مشتعل کرنے والا اقدام تھا چنانچہ ایران نے آبنائے ہرمز کو پھر سے بند کر دیا جس سے امریکا اور ایران کے درمیان پھر فاصلے بڑھ گئے۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں صرف ایک ہی نکتہ حائل تھا اور وہ یورینیم کی افزودگی کا معاملہ تھا، حالانکہ اس معاملے پر ایران نے کافی لچک دکھائی تھی، اب وہ صرف یورینیم افزودگی کے لیے اپنا حق تسلیم کرانا چاہتا تھا مگر ٹرمپ بضد تھے کہ ایران 20 سال تک یورینیم افزودگی نہیں کر سکے گا جب کہ ایران اس کے لیے تیار ہو گیا تھا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں امریکا ایران کے ساتھ سراسر زیادتی کر رہا ہے، جب اسرائیل ایٹم بم بنا بھی چکا ہے تو ایران کو صرف یورینیم افزودگی کی بھی اجازت نہ دینا سراسر زیادتی ہے، بہرحال یہ بات تو اب پوری دنیا جانتی ہے کہ ایران سے جنگ کرکے ٹرمپ نے امریکی ساکھ کو اتنا نقصان پہنچا دیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی امریکا کو اتنی ذلت نہیں اٹھانا پڑی تھی۔ تمام ہی یورپی ممالک ٹرمپ کی ایران پر جنگ تھوپنے کی کارروائی کے خلاف ہیں۔
وہ اس جنگ کو اسرائیل کی جنگ قرار دے رہے ہیں جس میں امریکا کی دخل اندازی سمجھ سے باہر ہے۔ جرمنی کے چانسلر فریڈ رچ مرز نے کہا ہے کہ ایران سے جنگ کرکے امریکا کو بہت ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اب ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ جلدازجلد ایران سے امن معاہدہ کر لیں اور جنگ کو ختم کر دیں۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ ایران سے جنگ امریکا کو بہت مہنگی پڑ رہی ہے۔ البتہ یہ جنگ اسرائیل کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوئی ہے کہ وہ اس دوران لبنان پر مسلسل حملے کرتا رہا اور جنگ بندی ہونے تک اس نے لبنان کے کافی بڑے جنوبی حصے پر قبضہ کر لیا ہے، یہ دراصل اس کے گریٹر اسرائیل منصوبے کی ایک کڑی ہے مگر لگتا ہے ٹرمپ کے ذریعے وہ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے مطلوبہ علاقوں کو فتح کرکے گریٹر اسرائیل کے نامکمل نقشے کو پورا کر لے گا۔
ایران نے امریکا کے خلاف ایک اہم کام یہ کیا ہے کہ جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ میں واقع تمام امریکی فوجی اڈوں کو اتنا نقصان پہنچا دیا ہے کہ اب شاید امریکا کو انھیں خیرباد ہی کہنا پڑے گا۔ اسرائیل پاکستان کی ثالثی سے سخت ناراض ہے کیونکہ اس کے نزدیک پاکستان ایران کو نقصان سے بچانا چاہتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران پر حملہ کرکے دراصل پوری دنیا کو توانائی کے مسئلے میں پھنسا دیا ہے، خود امریکا بھی کئی مسائل سے دوچار ہو گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے پورے امریکا میں بے چینی پھیلا دی ہے۔ ابھی تک تو یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا۔
تو امریکا امن معاہدے کے لیے تیار ہو جائے گا مگر اب تو ٹرمپ نے اپنے اہلکاروں کو حکم دیا ہے کہ ایران کی ناکہ بندی غیرمعینہ مدت جاری رکھی جائے جس سے لگتا ہے وہ اس جنگ کو ختم کرنے کے بجائے مزید الجھائے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی سوچ کے مطابق دنیا کی توجہ مکمل طور پر ایپسٹین فائلز سے ہٹ جائے اور وہ اس کی ذلت سے بچ جائیں مگر لگتا ہے امریکی عوام کی یادداشت اتنی کمزور نہیں ہے کہ وہ اتنے بڑے اسکینڈل کو بھول جائیں۔