یکم مئی مزدوروں کا دن

یکم مئی ہمیں یہی یاد دلاتا ہے کہ سوال کرنا ضروری ہے اور خاموشی کبھی حل نہیں ہوتی


زاہدہ حنا May 03, 2026

آج جب میں یہ سطور لکھنے بیٹھی ہوں تو یکم مئی دروازے پر دستک دے رہی ہے، وہ دن جسے ہم مزدوروں کے نام سے منسوب کرتے ہیں مگر کیا واقعی یہ دن اب بھی اُن کا ہے جن کے ہاتھوں کی لکیروں میں محنت اور مشقت کی داستانیں لکھی ہوتی ہیں؟

میں سوچتی ہوں کہ تاریخ کے اوراق میں وہ لمحہ کتنا روشن تھا جب شکاگو کی سڑکوں پر مزدوروں نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی تھی، وہ آواز محض اجرت بڑھانے یا اوقات کار کم کرنے کی نہیں تھی بلکہ یہ انسان کی حرمت کی جدوجہد تھی، آج صدیوں بعد، ہم کہاں کھڑے ہیں؟

کراچی کی سڑکوں پر چلتے ہوئے جب میں مزدوروں کے چہروں کو دیکھتی ہوں تو اُن چہروں میں ایک خاموش تھکن بسی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ تھکن نہیں جو ایک دن کی محنت کے بعد آتی ہے بلکہ یہ ایک ایسے نظام کی تھکن ہے جو انسان کو مسلسل نچوڑتا رہتا ہے۔ فیکٹریوں کے دروازے بند ہو رہے ہیں، صنعتیں دم توڑ رہی ہیں اور بے روزگاری کا سایہ ہر گھر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔

کچھ دن پہلے ایک اخبار میں خبر پڑھی کہ ایک اور سرکاری ادارہ نجکاری کی نذر ہو گیا۔ مجھے یاد آیا کہ ہم نے بچپن میں ریاست کو ایک ماں کی طرح پڑھا تھا جو اپنے شہریوں کی کفالت کرتی ہے، اُن کے حقوق کی محافظ ہوتی ہے، مگر اب لگتا ہے کہ یہ ماں اپنے ہی بچوں کو بازار میں فروخت کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس مجبوری کا ذمے دار کون ہے؟ ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں ترقی کے نام پر انسان کو پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت، خودکار مشینیں اور ڈیجیٹل دنیا، یہ سب ترقی کی علامتیں سمجھی جاتی ہیں مگر کیا یہ ترقی اُس مزدور کے لیے بھی ہے جس کے ہاتھوں سے اوزار چھین لیے گئے ہیں؟

کیا یہ ترقی اُس کسان کے لیے بھی ہے جس کی زمین پر اب کارپوریٹ اداروں کی نظریں ہیں۔مجھے بارہا یہ سوال ستاتا ہے کہ جو لوگ اپنی محنت سے اس دنیا کو سنوارتے ہیں وہی اپنی بنیادی ضروریات سے کیوں محروم رہتے ہیں؟ یہ سوال آج بھی اتنا ہی تازہ ہے جتنا کل تھا۔

ہمارے سماج میں ایک عجیب تضاد پیدا ہو گیا ہے۔ ایک طرف چند لوگ ہیں جن کے پاس دولت کے انبار ہیں اور دوسری طرف ایک وسیع اکثریت ہے جو بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہی ہے۔ یہ عدم مساوات محض اقتصادی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی بحران بھی ہے۔ جب ایک بچہ بھوکا سوتا ہے تو یہ صرف اس کے والدین کی زمہ داری نہیں بلکہ پورے سماج کی شکست ہوتی ہے۔

میں اکثر سوچتی ہوں کہ ہم نے کب اور کیسے یہ مان لیا کہ یہ سب نارمل ہے کہ بے روزگاری ایک فطری چیز ہے کہ غربت مقدر ہے، مزدور کا استحصال ایک ناگزیر حقیقت ہے۔ شاید یہ وہ لمحہ تھا جب ہم نے سوال کرنا چھوڑ دیا۔

یکم مئی ہمیں یہی یاد دلاتا ہے کہ سوال کرنا ضروری ہے اور خاموشی کبھی حل نہیں ہوتی۔ حقوق مانگنے سے نہیں بلکہ جدوجہد سے ملتے ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں جب میں مزدور تحریک کو دیکھتی ہوں تو امید کی ایک کرن نظر آتی ہے۔

کہیں لوگ اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکل رہے ہیں، کہیں یونینز دوبارہ منظم ہو رہی ہیں، کہیں نوجوان نسل اس نظام پر سوال اٹھا رہی ہے۔ یہ خوش آیند بات ہے، اس سے امید باقی رہتی ہے۔

مگر ہمارے یہاں اکثر جدوجہد کو بدنام کیا جاتا ہے، آواز اٹھانے والوں کو خاموش کر دیا جاتا ہے اور اختلاف کو غداری کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ایسے میں یکم مئی کا دن محض ایک رسمی تعطیل بن کر رہ جاتا ہے، ایک ایسا دن جس میں تقاریر تو ہوتی ہیں مگر عمل نہیں۔

میں یہ نہیں کہتی کہ حالات بدلنا آسان ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر تبدیلی ایک طویل اور کٹھن جدوجہد کا نتیجہ ہوتی ہے، مگر یہ بھی سچ ہے کہ کوئی بھی نظام ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہتا۔ جب ناانصافی اپنی انتہا کو پہنچتی ہے تو تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مزدور کو صرف ایک لیبر فورس کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ انسان کے طور پر پہچانیں، جس کے خواب ہیں، خواہشات ہیں اور عزت نفس ہے۔ ہمیں ایک ایسے سماج کی تشکیل کرنی ہوگی جہاں ترقی کا مطلب صرف معاشی نمو نہ ہو بلکہ انسانی فلاح بھی ہو۔

یکم مئی کے اس موقع پر، شاید ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کیا ہم واقعی ایک منصفانہ معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں یا ہم صرف ایک ایسے نظام کو سہارا دے رہے ہیں جو چند لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے اور باقی سب کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔

یہ سوال آسان نہیں مگر ضروری ہے۔ یکم مئی صرف ایک دن نہیں، ایک یاددہانی ہے کہ انسان کی عزت اس کی محنت اور اس کے حقوق کسی بھی سماج کی بنیاد ہوتے ہیں، اگر یہ بنیاد کمزور ہو جائے تو کوئی بھی عمارت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔

کوئی بھی سماج اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک انصاف نہ ہو، برابری نہ ہو، لوگوں کو ایک سے مواقع میسر نہ ہوں، اگر ہمیں آگے بڑھنا ہے تو مزدوروں کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا ہوگا۔