دو ہی راستے

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فضائیہ، نیوی سب کچھ تباہ ہو چکا ہے


ایم جے گوہر May 03, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کے ذریعے ایران کی طرف سے جو تجاویز موصول ہوئی ہیں وہ اس سے مطمئن نہیں ہیں۔

انھوں نے ایرانی قیادت کو کنفیوژڈ قرار دیتے ہوئے کہا کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ، حقیقی قیادت کس کے پاس ہے، کسی کو نہیں معلوم۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سے بات چیت جاری ہے، لیکن یقین نہیں کہ کسی نتیجے پر پہنچ سکیں گے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فضائیہ، نیوی سب کچھ تباہ ہو چکا ہے، ہم نے ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں، ہم بات چیت کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ ایران کی جانب سے دی جانے والی نئی تجاویز سے بھی مطمئن نہیں ہیں۔ یہ تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھجوائی گئی ہیں۔ صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے لیکن میں تجاویز سے مطمئن نہیں ہوں۔

اس سے قبل بھی ایران کی جانب سے دو مرتبہ امریکا کو پاکستان کے ذریعے جو تجاویز بھیجی گئی تھیں، انھیں بھی صدر ٹرمپ مسترد کرچکے ہیں۔ وہائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق امریکا نجی سفارتی بات چیت کی تفصیلات ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جنگ کا مستقل خاتمہ اور خطے میں پائیدار امن کا قیام ایران کی ترجیح ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً 39 روزہ جنگ کے بعد 5 اپریل کو پاکستان کی زبردست سفارتی ثالثی کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی۔ صدر ٹرمپ اعلانیہ کہتے ہیں کہ انھوں نے پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی درخواست پر جنگ بندی کا اعلان کیا۔

صدر ٹرمپ نے مذکورہ انٹرویو میں بھی پاکستانی وزیر اعظم اور پاک فوج کے سپہ سالار اعظم فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں امریکا ایران ثالثی میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ 11 اپریل کو اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں دونوں ملکوں کے اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان بالواسطہ اور بلاواسطہ ہر دو سطح پر 20 گھنٹوں سے زیادہ طویل مذاکرات ہوئے، تاہم بات چیت کا کوئی حتمی نتیجہ برآمد نہ ہوا اور بغیر کسی معاہدے کے مذاکرات کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔

مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پاکستان نے سفارتی ثالثی کا سلسلہ جاری رکھا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کا 24 گھنٹے کے دوران دو مرتبہ دورہ کیا اور وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، ادھر امریکی صدر نے بھی اعلان کیا کہ بات چیت کے دوسرے دور کے لیے امریکی وفد پاکستان جانے کے لیے روانہ ہو سکتا ہے لیکن ایرانی وزیر خارجہ اپنے وفد کے ہمراہ ماسکو روانہ ہو گئے۔ یوں ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کے اسلام آباد میں ہونے کے امکانات ختم ہو گئے۔

تازہ صورت حال میں پاکستان کی ثالثی کے ذریعے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر اعظم شہبازشریف ایرانی و امریکی قیادت سے ٹیلی فونک بات چیت کے پہلو بہ پہلو سعودی عرب، قطر، بحرین، عجمان، امارات اور چین و روس اور مصر و ترکی کی اعلیٰ قیادت سے بھی مسلسل ٹیلی فونک سفارت کاری کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں اور حتی المقدور کوشاں ہیں کہ کسی صورت امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کی راہ ہموار ہو سکے اور دونوں فریق کسی قابل قبول معاہدے تک پہنچ جائیں۔

ایک طرف پاکستان کی اعلیٰ قیادت ثالثی کی بھرپور کوششیں کر رہی ہے تو دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کے صبح شام رنگ بدلتے اور تضادات سے بھرے بیانات ماحول کو پھر بار بار کشیدہ کرکے صورت حال کو دوآتشہ کر دیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ وہ ایران پر دوبارہ حملے کے لیے تانے بانے بن رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے مذکورہ انٹرویو میں یہ بھی کہا ہے کہ جنگ بندی ختم کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، گویا وہ ایران پر دوبارہ حملے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق سینٹرل کمانڈ نے ایران پر مختصر اور طاقتور حملوں کا منصوبہ تیار کر رکھا ہے، امریکی فوجی قیادت تہران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر صدر ٹرمپ کو جلد بریفنگ دے گی۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی دھمکی دی ہے کہ ممکن ہے کہ ہمیں ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کرنا پڑے۔ ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے جنگ کی امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح طور پر کہا ہے کہ فساد برپا کرنے والے غیر ملکیوں (امریکا و اسرائیل) کی جگہ خلیج فارس کی تہہکے سوا کچھ نہیں، ایران اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کی ہر صورت حفاظت کرے گا۔

صدر ٹرمپ کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے تائب ہو جائے اور اس کے پاس جو یورینیم ہے اسے امریکا کے حوالے کر دے۔ ایران اس مطالبے کی تکمیل پر کسی صورت آمادہ نہیں ہے۔ امریکی صدر کا مذکورہ انٹرویو میں یہ کہنا کہ ایران کو صحیح ڈیل کرنا ہوگی ورنہ ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں ایران کو تباہ کردیں یا معاہدہ کر لیں، ان کے مستقبل کے خطرناک عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔