ایک آسٹریلین کے آنسو

یہ منظر پی ایس ایل میں حیدرآباد کنگزمین کی اسلام آباد یونائیٹڈ پر فتح کے بعد کا تھا


سلیم خالق May 03, 2026

کراچی:

میچ ختم ہو گیا، کھلاڑی فتح پر خوشیاں منانے لگے، ایسے میں ایک پلیئر نے کہا کہ کپتان کہاں ہے، دیکھا تو وہ آنکھیں بازو سے کور کر کے آنسو بہا رہے تھے، پھر انھوں نے جشن میں سب کو جوائن کر لیا۔ 

یہ منظر پی ایس ایل میں حیدرآباد کنگزمین کی اسلام آباد یونائیٹڈ پر فتح کے بعد کا تھا، پورے میچ میں فاتح ٹیم حاوی رہی،اسے آخری 2 اوورز میں 28 رنز کا دفاع کرنا تھا۔ 

گیند سب سے قابل بھروسہ بولر محمد علی نے سنبھالی،وہ پورے ایونٹ میں عمدہ بولنگ کرتے رہے ہیں، اس میچ میں بھی کارکردگی اچھی رہی تھی لیکن کرکٹ میں جوش کے ساتھ ہوش بھی بیحد ضروری ہے، اپنے غصے کو بھی کنٹرول کرنا پڑتا ہے۔ 

میچ کے دوران محمدعلی کی مارک چیپمین سے گرما گرمی ہوئی تھی، دیگر پلیئرز نے دونوں کو ایک دوسرے سے دور کیا، اس کے بعد پیسر پر جذبات حاوی ہو گئے۔

آخر میں جب وہ بولنگ کرنے آئے تو لائن و لینتھ بھول چکے تھے، اس کا کرس گرین اور فہیم اشرف نے فائدہ اٹھاتے ہوئے 22 رنز بنا لیے، اب22 سالہ نوجوان حنین شاہ کو آخری اوور میں صرف 6 رنز کا دفاع کرنا تھا۔ 

سب جانتے ہیں کہ ٹی ٹوئنٹی میں تو ایک اوور میں 20 رنز بھی بن جاتے ہیں، 6 رنز میں سے 4 تو کسی ایج پر بائونڈری سے ہی بننے کا چانس تھا، مجھے یقین ہے کہ بہت سے کنگزمین کے فینز اس وقت اپنا ٹی وی بند کر کے محمدعلی پر تنقید کرنا شروع ہو گئے ہوں گے۔ 

ایسے میں حنین نے کمال کر دیا، ایک اوور پہلے 6 بالز پر 22 رنزبنانے والے دونوں بیٹرز کے قدم جیسے جکڑ گئے، ان کے بیٹ میں جان نہ رہی، سلو اوور ریٹ کے سبب کنگز مین کو سرکل میں ایک فیلڈر زیادہ رکھنا پڑا اس کا بھی حریف سائیڈ فائدہ نہ اٹھا سکی۔ 

یارکرز بھی درست پڑیں فل ٹاس میں تبدیل نہ ہوئیں، عماد وسیم جب بیٹنگ کیلیے آئے تو زوردار شاٹ کھیلا عام حالات میں وہ چوکا ہوتا لیکن ابھی قسمت کنگزمین کے ساتھ تھی گیند سیدھی فیلڈر کے ہاتھوں میں گئی۔ 

جیسے ہی آخری گیند پر بائونڈری نہ لگی تو گرائونڈ میں جشن کا سماں سامنے آیا، ایسے میں لبوشین کے آنسو بھلائے نہیں جا سکتے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ گورے جذبات سے عاری ہوتے ہیں، وہ یہاں صرف پیسہ کمانے آتے ہیں لیکن اس آسٹریلین کے تو کوئی پیسے نہیں کٹنے تھے ٹیم ہار جاتی تو کیا ہوتا؟ اس کے باوجود اتنی انوالومنٹ ظاہر کرتی ہے کہ پی ایس ایل میں پاکستان کی میزبانی غیرملکیوں کو بھی کیسے اپنا بنا لیتی ہے۔ 

چند دنوں کے ساتھ میں ہی وہ بندہ اس ٹیم کو اپنی ٹیم سمجھنے لگا، یہی ہماری لیگ کی کامیابی ہے، نہ صرف کنگزمین بلکہ اگر ہم کراچی کنگز کو دیکھیں تووہاں ڈیوڈ وارنر کی مثال سامنے ہے، وہ بھی میدان میں جان لڑاتے دکھائی دیے۔ 

لاہور قلندرز کو دیکھ لیں جو غیرملکی پلیئر ان کے ساتھ ایک بار جڑا ہمیشہ تعریف ہی کرتا ہے، یہ صرف ایک فرنچائز کی بات نہیں ہوتی، ایسے غیرملکی جب واپس اپنے ملک جا کر پاکستان کی تعریفیں کرتے ہیں تو اس سے ہمارا سافٹ امیج سامنے آتا ہے۔ 

اسی پی ایس ایل میں جب میں نے ایک ٹیم ڈنر میں شرکت کی تو دیکھا تھا کہ کیسے بڑے بڑے غیرملکی سپراسٹارز پاکستانی نوجوان غیرمعروف کرکٹرز سے بھی ہنسی مذاق کر رہے تھے، یہ سب اپنے ملک جا کر بھی پاکستان کی چکن کڑھائی اورملائی بوٹی کو یاد کرتے ہیں۔

اپنے ملک میں یہ ابھی جائیں گے تو ایئرپورٹ پر شاید ہی کوئی لینے آیا ہو اوبر پرگھر جانا پڑے،البتہ پاکستان میں لینڈ ہوتے ہی ان کی کسی بادشاہ کی طرح آؤ بھگت ہوتی ہے۔ 

اس پی ایس ایل میں کنگز مین کا سفر بھی کسی پریوں کی کہانی جیسا ہے، فواد سرور ایک امیرترین امریکی شخصیت ہیں، حیدآباد سے امریکا گئے لیکن اپنے ملک کو نہیں بھولے، کرکٹ کے انتہائی شوقین ہیں، وہاں اپنی ٹیمیں و اسٹیڈیمز بنائے اور کئی پاکستانی کرکٹرز کی زندگی بھی سنوار دی۔

آج اگر بہت سے کھلاڑی گرین کارڈ ہاتھ میں لے کر گھوم رہے ہیں تو اس میں فواد کا بھی بڑا کردار ہے، مجھے کنگزمین کے ایک کھلاڑی نے بتایا تھا کہ جیسے ہمارے ملک میں امیرلوگوں کے گاڑیوں کے گیراج ہوتے ہیں فواد بھائی کے پرائیوٹ جیٹس کا گیراج ہے۔ 

وہ اپنے جہاز میں ہی پاکستان 1،2 دن کے لیے آتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان میں غرور بالکل نہیں ہے، وہ سب کو برابر کا سمجھ کر بات کرتے ہیں،انھوں نے پی ایس ایل میں ایک ارب 80 کروڑ کی ٹیم خرید کر جو ہمت دکھائی اسی کی وجہ سے پی سی بی 2 ارب کا جادوئی ہندسہ بھی پار کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ 

جب کنگزمین کی ٹیم بنی تو صرف ایک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلنے والے لبوشین کی کپتانی ، پاکستانی کرکٹ سے دور امریکی نژاد پلیئرز کی شمولیت،آؤٹ آف فارم صائم ایوب کا کروڑوں میں انتخاب اور کئی دیگر فیصلوں کی وجہ سے تنقید ہوتی رہی، پھر ابتدائی چار شکستوں کے بعد ناقدین نے اسے نشانے پر رکھ لیا۔

10 میں سے صرف ایک میچ جیتنے والی فرنچائز راولپنڈیز کے کپتان محمد رضوان نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’ میں نہیں چاہتا کنگزمین پلے آف میں پہنچیں یہ اس کے حقدار نہیں ہیں‘‘ پھر کیا ہوا یہ دنیا نے دیکھا ، ٹیم اب فائنل میں رسائی پا چکی ہے، اس نے اپنے آخری 8 میں سے 7 میچز جیتے۔ 

اس میں محمد علی، حنین شاہ اور عاکف جاوید کی بولنگ کا بھی اہم کردار ہے، کسی اور ٹیم کے پیسرز نے رواں ایڈیشن میں کنگزمین سے زائد وکٹیں نہیں لیں، عثمان خان 381 رنز بنا کر چوتھے بہترین بیٹر ہیں۔ 

لبوشین کی بیٹنگ بھی بہتر ہے، صائم کی فارم واپس نہیں آ سکی لیکن میکسویل کی آمد ٹیم میں نئی جان ڈال چکی ہے، دوسری طرف پشاور زلمی کو دیکھیں تو بابر اعظم نے اسے تقریبا ناقابل تسخیر بنا رکھا ہے۔ 

صرف ایک ہی شکست ہوئی،کوشال مینڈس کی بیٹنگ بھی لاجواب ہے، سفیان مقیم سب سے زیادہ 21 وکٹیں لے چکے، اتوار کو ایک زبردست مقابلہ شائقین کا منتظر ہو گا، ٹرافی جسے بھی ملے جیت پاکستانی کرکٹ کی ہو گی،ہم نے اپنی مہمان نوازی سے ایک بار پھر سب کے دل جیت لیے ہیں۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)
 

تحریر کردہ
سلیم خالق

saleem-khaliq

مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔