یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بیلاروس کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ وہ روس کی جنگ میں شامل ہونے سے گریز کرے، جبکہ یوکرین نے دونوں ممالک کی سرحد پر مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی بھی کی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ یوکرین بیلاروس کے ساتھ سرحدی علاقوں میں ہونے والی ہر پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
یوکرینی صدر نے اس سے قبل بھی خبردار کیا تھا کہ بیلاروس کو روس کی جنگ میں شامل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا، جس کے دوران اس کی افواج نے بیلاروس کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے کیف کی جانب پیش قدمی کی تھی، تاہم بیلاروس براہ راست جنگ میں شامل نہیں ہوا۔
زیلنسکی نے بتایا کہ سرحدی علاقوں میں نئی سڑکیں اور توپ خانے کی پوزیشنز قائم کی جا رہی ہیں، جبکہ یوکرین کا مؤقف ہے کہ روس بیلاروس میں رہائشی عمارتوں کو استعمال کرتے ہوئے حملے کر رہا ہے تاکہ یوکرینی دفاعی نظام کو چکمہ دیا جا سکے۔
دوسری جانب یوکرین کے مختلف شہروں میں روسی حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جنوبی شہر خرسون میں ڈرون حملے کے نتیجے میں شہری ٹرانسپورٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے۔ اس کے علاوہ ڈنیپرو، اوڈیسا، سومی اور خارکیف میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں۔
یوکرینی حکام کے مطابق ایک ڈرون حملے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا، تاہم بجلی کی فراہمی بعد میں بحال کر دی گئی۔ مزید برآں یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے روس کے تواپسے بندرگاہ کو گزشتہ 16 دنوں میں چوتھی بار نشانہ بنایا ہے۔
ادھر روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے محاذ پر پیش قدمی کرتے ہوئے سومی کے علاقے میں ایک گاؤں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جبکہ ڈونیتسک ریجن میں بھی پیش رفت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ میں بیلاروس کا ممکنہ کردار خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، جبکہ حملوں میں شدت آنے سے تنازع کے مزید پھیلنے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔