ایران کو پاکستان کے ذریعے امریکا کا جواب مل گیا، جائزہ لے رہے ہیں، ایرانی وزارت خارجہ

امریکا کو دی گئیں 14 تجاویز میں جوہری معاملہ شامل نہیں تھا، اس وقت جنگ کے خاتمے پر توجہ ہے، اسماعیل بقائی


ویب ڈیسک May 03, 2026
فوٹو: ایرانی میڈیا

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا نے پاکستان کے ذریعے ایران کے 14 نکاتی تجاویز کا جواب دے دیا ہے، جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ امریکا کا جواب موصول ہوگیا ہے اور اب اس جواب کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ ایرانی 14 نکاتی تجاویز میں جوہری معاملہ شامل نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ تجاویز اضافی تفصیلات فراہم کیے بغیر صرف جنگ کے خاتمے کو مدنظر رکھ کر دی گئی تھیں، جس کا مقصد ایران کے خلاف امریکا-اسرائیل کی جارحیت کا خاتمہ ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ جوہری معاملہ 14 نکاتی تجاویز میں شامل نہیں تھا اور بعض میڈیا کے اداروں کی جانب سے اس حوالے سے جو رپورٹ کیا گیا وہ ان کا تصوراتی بیان ہے۔

تجاویز میں ایران کی 15 سال کے لیے جوہری سرگرمیوں سے دستبرداری اور آبنائے ہرمز میں ممکنہ طور پر امریکا-ایران کے تعاون سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے حوالے سے میڈیا کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایسی چیزیں ہیں جس کو میں چند میڈیا اداروں کی خیالی رپورٹ تصور کر رہا ہوں اور منصوبے میں ایسی کوئی چیز شامل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا بنیادی سفارتی اور سیکیورٹی کوششیں خطے بھر میں اور خاص طور پر لبنان میں جارحیت روکنے پر مرکوز ہے، ہم اس وقت خطے میں جنگ ختم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں، جس میں لبنان بھی شامل ہے اور فیصلے مناسب وقت پر کیے جائیں گے۔

ترجمان نے پھر دہرایا کہا کہ اس مرحلے پر ہماری توجہ جنگ کے خاتمے پر ہے اور ہمارے جوہری معاملات پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکیوں نے 14 نکات پر اپنا جواب پاکستان کو دے دیا ہے اور اس وقت ہم اس کا جائزہ لے رہےہیں۔

قبل ازیں امریکا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ تہران پر دوبارہ حملوں کے امکانات موجود ہیں اور اب ایران کو اپنے اقدامات کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

ان کا کہنا تھ اکہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی ممکنہ ڈیل کی تجاویز سے آگاہ کیا گیا ہے تاہم تفصیلات کا جائزہ لیا جائے گا لیکن یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ ایران کی پیش کش قابل قبول ہوسکے گی۔