یہ حکومتی فیصلے

بجلی کی قلت کرکے لوڈ شیڈنگ بڑھائی گئی جو اب بھی بدترین صورت حال اختیار کر چکی ہے اور سردیوں میں بھی ملک بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے محفوظ نہیں تھا۔


[email protected]

موجودہ حکومت میں معاشی بدتری کی بہتری کے لیے شرح سود کچھ کم کرنے کے فیصلوں کے تحت صرف نصف فی صد کمی کی جا رہی تھی جس میں مزید کمی کے مطالبے ہو رہے تھے مگر لگتا ہے کہ عوام اور صنعت کاروں کو سہولیات نہ دینے کا کہہ رکھا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے ہمیشہ توقع رکھی گئی کہ وہ عوام کو ریلیف اور صنعتوں کو سہولیات دے گی اور ماضی میں بہت کم حد تک عوام کا خیال رکھا گیا اور صرف چند صنعتوں کو سہولیات دی گئیں مگر ان سے عوام کو کبھی ریلیف نہیں ملا ۔ حکومت کسی بھی پارٹی کی ہو وہ ہمیشہ اپنوں کو نوازتی رہی ہے کیونکہ ہر پارٹی کے رہنما چینی و بجلی کی پیداوار پر کنٹرول رکھے ہوئے ہیں، اہل اقتدار کی جانب سے ہمیشہ ملک میں وافر مقدار ہونے کا جھوٹ بول کر چینی باہر بھیجی جاتی رہی اور پھر ملک میں مصنوعی قلت پیدا کرکے باہر سے مہنگی چینی منگوانے سے دونوں طرف سے کمائی کا موقعہ شوگر ملز کو دیا جاتا رہا ہے۔

 بجلی کی قلت کرکے لوڈ شیڈنگ بڑھائی گئی جو اب بھی بدترین صورت حال اختیار کر چکی ہے اور سردیوں میں بھی ملک بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے محفوظ نہیں تھا۔ کراچی کے بعض علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ خوف ناک صورت حال اختیار کر چکی ہے اور لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ دس بارہ گھنٹوں تک پہنچ چکا ہے مگر عوام کو نہیں پتا کہ عشروں سے حکومتیں جن کو اربوں روپے ادا کر چکی ہیں تو بتا جائے کہبجلی کہاں ہے اور لوڈ شیڈنگ کیوں بڑھائی جاتی رہی ہے۔

بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے موجودہ حکومت نے سولر سسٹم پالیسی بنائی تھی جس کے بعد بڑے سولر سسٹم کے تحت فاضل بجلی حکومت نے معقول نرخ پر خریدنی شروع کی تھی جس سے بجلی کی پیداوار بڑھی تو بعض کمپنیوں کو اپنی کمائی خطرے میں نظر آئی، پھر پالیسی تبدیل کرائی گئی جس سے سولر سسٹم لگانے والوں کو بڑا نقصان ہوا کہ جنھوں نے حکومت کے کہنے پر اربوں روپے خرچ کر دیے تھے جس پر شدید احتجاج کے بعد وزیر اعظم نے نوٹس لیا تھا۔

ملک میں گھریلو اور کاروباری ضروریات پوری کرنے کے لیے لاکھوں افراد نے اپنی بجلی پیدا کرکے سرکاری بجلی پر انحصار ختم کر دیا تھا جس سے بجلی کم استعمال ہونے لگی تو ایک پالیسی کے تحت 25 کلو واٹ صارفین کے لیے بھی لائسنس لینے کی پابندی لگا دی گئی تھی جس پر پھر شدید احتجاج ہوا تو وزیر توانائی کی ہدایت پر پاور ڈویژن نے نیپرا سے درخواست کی کہ 25 کلو واٹ سے کم سولر صارفین کے لیے لائسنس کی شرط ختم کر دی جائے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ عوام دشمن سولر پالیسی پر جواب طلب کیا جاتا کہ یہ پابندی کیوں لگائی گئی؟

 موجودہ حکومت نے صنعت کاروں کے مسلسل مطالبوں پر شرح سود میں کچھ کمی کرنا شروع کی تھی مگر حکومت نے حال ہی میں شرح سود میں مزید کمی کی بجائے اچانک اسٹیٹ بینک کے بنیادی پالیسی ریٹ میں سو فی صد بیس پوائنٹس میں اضافہ کرکے اسے 105 فی صد سے بڑھا کر 115 فی صد کر دیا جس پر کراچی چیمبرز کے صدر نے شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مانیٹری پالیسی کو موجودہ حالات میں سخت کرنے کی ضرورت نہیں تھی اس فیصلے سے قرضوں کی لاگت میں مزید اضافہ ہوگا۔

مسلم لیگ (ن) کی ماضی کی حکومتوں میں عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے اور عوام کو حکومتی شکنجے میں پھنسا کر حکومتی آمدنی بڑھانے کے فیصلے ہوتے رہے اور اس دور میں نئے بینک اکاؤنٹ کھولنا مشکل بنایا گیا پھر پچاس ہزار سے زائد رقم نکالنے پر ٹیکس وصولی شروع کی گئی تھی۔

سابق پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسی کی بنیاد کو جواز بنا کر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات، بجلی و گیس مہنگی سے مہنگی کرنے کی اپنی پالیسی مزید سخت کرکے تینوں پر مزید اضافے کیے مگر مطمئن نہ ہونے پر پٹرولیم مصنوعات پر لیوی مسلسل بڑھائی جاتی رہی۔ بجلی و گیس بے حد اضافے سے پہلے ہی بے حد مہنگی تھی جن کے میٹروں کے نصب کے وقت ہی میٹروں کی قیمت وصول کر لی جاتی تھی مگر صارفین کے اپنے ہی میٹروں کا جبری کرایہ ہر ماہ لیا جاتا رہا پھر گیس بلوں میں کم سے کم چھ سو روپے فکسڈ چارجز لگانے کے بعد بجلی بلوں پر بھی فکسڈ چارجز وصول کرنا شروع کر دیے تھے بس پٹرول پر فکسڈ چارجز لگنا باقی رہ گیا ہے اور یہ حکومت قدرتی سورج سے ملنے والی بجلی کو بھی نہیں بخش رہی اور اب اس کے لیے بھی لائسنس ضروری کر دیا گیا ہے۔

پی پی اور (ن) لیگ کی سابقہ حکومتوں کے برعکس موجودہ (ن) لیگی حکومت کے عوام دشمن فیصلے سب پر بازی لے گئے ہیں۔ موجودہ حکومت عوام کو معمولی ریلیف دینے پر یقین نہیں رکھتی اور اس کے قائد نے بھی اپنی پارٹی کے مسلسل عوام دشمن فیصلوں پر نہ جانے کیوں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

حکومت کے اخراجات میں کمی کے اعلانات بھی دکھاوا ہیں بلکہ سرکاری طور پر کوئی کفایت شعاری نہیں ہو رہی جس کا واضح ثبوت سرکاری پروٹوکول، بڑی بڑی کابینائیں، اپنوں کو نوازنے اور حکومتی اخراجات کم نہ کرنا ہے اور حکومتی پالیسی مہنگائی و بے روزگاری بڑھانا اور عوام کو ٹیکسوں سے مسلسل نچوڑنا ہی رہ گیا ہے اور حکومت کو عوام کا کوئی احساس نہیں ہے۔