کراچی:
عالمی سطح پر پاکستانی کپاس کی پہچان اورکراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی تاریخی عمارت کو ایک سرکاری محکمے کادفتر بنانے کی اطلاعات اور برصغیر میں سب سے پہلے کپاس کی وائرس فری ورائٹی تیارکر کے دنیا میں منفرد پہچان کے حامل ملتان کے کپاس کے تحقیقاتی ادارے سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں مقامی انتظامیہ کی جیم خانہ کلب قائم کرنے کے فیصلے نے کاٹن اسٹیک ہولڈرزکواضطراب سے دوچارکردیا ہے اور انہیں یہ خدشات لاحق ہوگئے ہیں کہ حکومتی سطح پر کپاس کی بحالی، پیداوار بڑھانے کے برعکس اہم زرعی شعبے کی منظم انداز میں تنزلی کی کوشش کی جارہی ہے۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایاکہ ملتان میں 16ایکڑ پر قائم کپاس کاتحقیقاتی ادارہ مطلوبہ فنڈمیں کمی کے باوجوداب تک کپاس کی 40 سے زائداقسام تیارکرچکاہے اورکپاس پر بڑے پیمانے پر تحقیقاتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم ملتان انتظامیہ کے مطابق اب یہاں 15ایکڑ پر جیم خانہ کلب قائم کیاجا رہاہے۔
انتظامیہ کافیصلہ قومی مفادکے منافی ہے،مجوزہ اقدام سے پاکستان کے اہم ترین فصل کپاس پر تحقیقاتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہونگی۔
احسان الحق نے بتایا کہ مشرق جنگ کے باعث روئی کی درآمدات معطل ہونے سے پاکستان میں فی الوقت روئی کے ذخائر ملکی تاریخ میں پہلی بار 30ہزارگانٹھ بھی کم رہ گئے ہیں،جبکہ مئی کے تیسرے ہفتے میں متوقع نیاجننگ سیزن اب عید الاضحی کے بعد شروع ہونے کے امکانات ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ بیشترکاٹن زونز میں شدیدگرمی یا بارشوں کے باعث کپاس کی چنائی اورکاشت میں خاصی تاخیر ہوسکتی ہے اورروئی کی درآمدات اگر مزیدکچھ عرصہ معطل رہیں تو اس سے پاکستان کی ٹیکسٹائل ملوں کومشکلات کاسامناکرنا پڑسکتاہے ۔