واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا پیر سے آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو نکالنے کے لیے عملی اقدام شروع کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے نکالنے کے لیے اس عمل ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیا ہے اور کہا کہ ناکہ بندی میں نرمی دراصل ایک انسانی ہمدردی کا عمل ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پیغام میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے میں موجود کئی جہازوں پر خوراک اور ضروری اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے جس کے باعث عملے کی صحت اور حفاظت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس مشن میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالی گئی تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے عائد غیر اعلانیہ پابندی اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق انہوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ ایرانی حکام کو واضح طور پر آگاہ کیا جائے کہ امریکا نیوٹرل ممالک کے جہازوں اور عملے کو بحفاظت نکالنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔
تین ہفتوں سے جاری نازک جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
امریکا میں پیٹرول کی قیمت 4.44 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے جو جنگ سے قبل 3 ڈالر سے بھی کم تھی جس کے باعث مہنگائی اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔