ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی اور واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کسی بھی سیاسی بحران کا حل فوجی طاقت کے ذریعے ممکن نہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں سفارتکاری ہی واحد راستہ ہے، جبکہ پاکستان کی کوششوں کے باعث ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت میں کچھ پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا۔
عباس عراقچی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسے ایسے عناصر سے محتاط رہنا چاہیے جو اسے دوبارہ کسی بڑے تنازع یا دلدل میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر خطے کے دیگر ممالک کا ذکر کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کو بھی محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی منصوبے ’پروجیکٹ فریڈم‘ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ درحقیقت مسئلے کے حل کے بجائے تعطل پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے، اور اسے ’پراجیکٹ ڈیڈ لاک‘ قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی، عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر گہرے اثرات ڈال رہی ہے، اور خطے میں سفارتی کوششوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔