سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت کا ایک نیا ماڈل تیار کیا ہے جو سی ٹی اسکینز کے ذریعے لبلبے کے کینسر کی علامات کو طبی تشخیص سے تین سال پہلے تک پکڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مایو کلینک کے محققین کی تیار کردہ یہ ٹیکنالوجی لبلبے میں ایسے باریک اور پوشیدہ پیٹرنز کی نشاندہی کرتی ہے جو انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتے۔
عام طور پر جب مریضوں میں پیٹ درد یا وزن میں کمی جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں، تب تک کینسر خطرناک حد تک بڑھ چکا ہوتا ہے۔ اس وقت لبلبے کے کینسر میں پانچ سال تک زندہ رہنے کی شرح صرف 13 فی صد ہے۔
اس اے آئی سسٹم (جسے ’ریڈیو مِکس-بیسڈ ارلی ڈیٹیکشن‘ کہا جاتا ہے) کو تقریباً ایک ہزار سی ٹی اسکینز کی مدد سے تربیت دی گئی۔ یہ اسکینز اُن مریضوں کے تھے جن کا ابتدا میں کسی اور بیماری کے لیے معائنہ کیا گیا تھا، لیکن بعد میں ان میں لبلبے کا کینسر تشخیص ہوا۔
جب اس اے آئی ماڈل کا موازنہ ماہر ریڈیولوجسٹس سے کیا گیا تو یہ ابتدائی علامات کی شناخت میں نمایاں طور پر زیادہ مؤثر ثابت ہوا۔
یہ تحقیق جرنل گَٹ میں شائع ہوئی ہے۔