جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں،آبنائے ہر مز میں کشیدگی موجود ہے۔ امریکا نے آبنائے ہر مز میں پھسنے ہوئے جہاز نکالنے کے لیے ایک آپریشن فریڈم شروع کیا ہے، جس کے جواب میں ایران نے اس آپریشن کو ناکام بنانے کے لیے جوابی حکمت عملی شروع کر دی ہے۔
یہ درست ہے کہ آبنائے ہر مز میں اگر ہزاروں نہیں تو سیکڑوں جہاز ضرور پھنسے ہوئے ہیں۔ امریکا ان جہازوں کو نکالنا چاہتا ہے۔ ان جہازوں کا عملہ بھی کئی ماہ سے آبنائے ہر مز میں پھنسا ہوا ہے۔ ان کے پاس کھانے پینے کی کمی ہوگئی ہے۔ وہ مشکل حالات میں ہیں اور آبنائے ہر مز کی بندش جاری ہے۔
ان میں تیل کے جہاز بھی شامل ہیں لیکن سب تیل کے جہاز نہیں ہیں، دیگر چیزوں کے جہاز بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ ان جہازوں کو لنگر انداز ہونے کے لیے کوئی بندرگاہ میسر نہیں۔ یہ صورتحال کافی سنگین ہے۔ لیکن نہ ایران کسی جہاز کو گزرنے دے رہا ہے نہ امریکا ایران کے کسی جہاز کو گزرنے نہیں دے رہا۔
ہے امریکا کے نیول بلاکیڈ سے ایران کی تیل اور دیگر سامان کی تجارت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ لیکن فی الحال جب تک میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں، آبنائے ہر مز کھلنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ امریکا کے آپریشن فریڈم کی کامیابی کے بھی امکانات نظر نہیں آرہے۔
ایران کی مزاحمت ابھی قائم ہے، ایران ابھی آبنائے ہر مز بند رکھنے کی طاقت رکھتا ہے، اس کی میزائل مارنے کی طاقت ابھی بھی موجود ہے۔ وہ اپنی اس طاقت کا بلا خوف مظاہرہ بھی کرتا ہے۔ ابھی ایران نے ابو ظہبی پر میزائل مارے ہیں۔ جس کی وجہ سے صورتحال ایک دم پھر کافی خراب ہو گئی ہے۔ امریکا نے اپنے سفارتخانے بند کر دیے ہیں۔اپنے لوگوں کو وہاں سے نکلنے کے لیے کہہ دیا ہے۔ لیکن یو اے ای کی پالیسی عرب ممالک میں ایران امریکا جنگ کے حوالے سے سب سے مختلف ہے۔ وہ جنگ چاہتے ہیں۔ دیگر عرب ممالک جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ فرق کافی اہم ہے۔
ایران نے فجیرہ آئل ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔ ابو ظہبی آبنائے ہر مز کی بندش کی وجہ سے اب فجیرہ سے اپنا تیل برآمد کر ہا ہے۔ یہاں سے آبنائے ہر مز کو بائی پاس کیا جا سکتا ہے۔ ایران کا اس پر حملہ بھی ایک پیغام ہے کہ اگر ہمیں تیل برآمد کرنے کی اجازت نہیں تو کسی اور کو بھی نہیں کرنے دیں گے۔ بہر حال اس حملے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے یو اے ای کے حکمران محمد بن زید کو فون کر کے تحمل کامشورہ دیا ہے۔ ایران کو جواب نہ دینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ورنہ ایک خدشہ یہ بھی تھاکہ اس بار عرب ممالک اور ایران کی جنگ شروع ہو جائے۔ لیکن شائد سعودی عرب نے پھر یو اے ای کو روکا ہے۔
دنیا کے سو سے زائد ممالک آبنائے ہر مز کی بندش سے پریشان ہیں۔ لندن میں ایک کانفر نس بھی ہوئی جس میں سو سے زائد ممالک نے فوری آبنائے حرمز کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایران کی بندش کی مذمت بھی کی گئی ہے۔ یورپ اور عرب ممالک سمیت سب آبنائے ہر مز کی بندش سے پریشان ہیں۔ تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں۔ لیکن ابھی سب ممالک طاقت سے آبنائے ہر مز کھلوانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
امریکا کی تو بہت کوشش رہی ہے کہ دنیا کے تمام متاثرہ ممالک آبنائے ہر مز کھلوانے کے لیے اس کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ لیکن ابھی کوئی بھی ملک امریکا کے ساتھ شامل ہونے کے لیے تیار نہیں۔ دنیا ابھی برداشت کر رہی ہے۔ دنیا تنگ ہے۔ دنیا کو مسائل ہیں۔ مہنگا تیل سب کا مسئلہ ہے۔ تیل کی سپلائی میں کمی سب کا مسئلہ ہے۔ لیکن ابھی دنیا اس مسئلہ پر جنگ کرنے کو تیار نہیں۔ شائد دنیا سمجھتی ہے کہ یہ امریکا اور ایران کا معاملہ ہے۔
ان دونوں کو مل کر ہی حل کرنا چاہیے۔ جنگ کی ضرورت نہیں۔ عرب ممالک بھی آبنائے ہر مز کی بندش سے بہت تنگ ہیں۔ ان کی تیل کی سپلائی بالکل رک گئی ہے۔ وہ بھی آبنائے ہر مز کھلوانے کے لیے بے تاب ہیں۔ لیکن ابھی ایران سے جنگ کرنے کے لیے تیارنہیں ہیں۔ وہ بھی دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مسائل دن بدن بڑھ رہے ہیں۔ لیکن ابھی ان کی طرف سے تحمل کا ہی پیغام ہے۔ ابو ظبہی کی فجیرہ آئل ایکسپورٹ پر ایرانی میزائل حملوں کے بعد بھی بھی انھیں تحمل کا پیغام دیا گیا ہے۔
دنیا کی کوشش یہی ہے کہ معاملہ افہام و تفہیم اور سفارتکاری اور مذاکرات سے حل ہو جائے۔ لیکن یہ سوال ہے کہ کب تک۔ ایران کو اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔ ایک حد سے زیادہ آبنائے ہر مز کی بندش ممالک کے لیے خطرناک بنتی جا رہی ہے۔
اس لیے ایران یہ کھیل زیادہ عرصہ جاری نہیں رکھ سکتا۔ کہیں نہ کہیں دنیا کو باہر نکلنا ہوگا۔ دباؤ ایران پر بڑھے گا۔ اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ اگر اب سیز فائر ٹوٹ ا تو اس کی بڑی وجہ آبنائے ہر مز ہوگی ۔ ایران کے پاسدران انقلاب کی جانب سے ا مریکی جہازوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔لیکن امریکا نے اس کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ ابھی امریکا بھی سیز فائر کو توڑنے کی خواہش نہیں رکھتا۔ وہ آبنائے ہر مز کھلوانے کی خواہش رکھتا ہے تا کہ تیل کی عالمی قیمتیں نیچے آجائیں۔ یہ قیمتیں امریکا کے لیے بھی درد سر بنی ہوئی ہیں۔ تا ہم ابھی سیز فائر کو امریکا قائم رکھنا چاہتا ہے۔ اسی لیے ابو ظبہی کو بھی تحمل کا پیغام ہے۔ اسرائیل بھی خاموش ہے۔ کیونکہ ابھی امریکا کا اشارہ نہیں۔
امریکا ابھی پاکستان کے ذریعے کی جانے والی سفارتکاری کو موقع دینا چاہتا ہے۔ کب تک یہ اہم سوال ہے۔ شائد تب تک جب تک ٹرمپ کا دورہ چین مکمل نہ ہو جائے۔ ٹرمپ جنگ کے سائے میں چین نہیں جانا چاہتے۔ لیکن کیا وہ مکمل امن حاصل کر جا سکیں گے۔ امن معاہدہ اس سے پہلے ہو جائے گا۔ یہ بھی ایک سوال ہے۔ دن کم رہ گئے ہیں۔ اس لیے اگر امن معاہدہ نہیں بھی ہوتا تو سیز فائر تو قائم رہنا چاہیے۔ باقی دورہ چین کے بعد دیکھا جائے گا۔ ابھی تو یہی منظر نامہ لگ رہا ہے۔