قرض کی زنجیریں اور ایٹمی طاقت کا تضاد: کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

ہماری معیشت کی سانس آئی ایم ایف کی قسطوں کی آکسیجن پر چل رہی ہے


حکومت قرض پر قرض لینے کے باوجود اسے استعمال کیوں نہیں کررہی؟ (فوٹو: فائل)

​پاکستان کی تاریخ آج ایک ایسے مقام پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں تضادات نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ ایک طرف ہم عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی قوت ہونے کا فخر سینے سے لگائے بیٹھے ہیں، تو دوسری جانب ہماری معیشت کی سانس آئی ایم ایف کی قسطوں کی آکسیجن پر چل رہی ہے۔

یہ کیسی خود مختاری ہے کہ ہمارے بجٹ کی فائلیں واشنگٹن کے اشاروں کی محتاج ہیں؟ یہ سوال اب محض ایک سیاسی بحث نہیں رہا بلکہ یہ ہماری قومی غیرت اور بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ہمیں یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اگر ہم معاشی طور پر کسی کے دستِ نگر ہیں، تو ہماری آزادی محض ایک خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہیں۔

​آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس ملک کے وسائل اور تقدیر پر چند مخصوص خاندانوں اور گروہوں کا قبضہ ہے۔ دہائیوں سے اقتدار کے ایوانوں میں وہی چہرے نظر آتے ہیں جنہوں نے ریاست کو اپنی ذاتی جاگیر میں بدل دیا ہے۔ ان کی جائیدادیں سرحد پار پھیلتی جا رہی ہیں، ان کے بچے دیارِ غیر کے تعلیمی اداروں میں پرورش پا رہے ہیں، جبکہ پاکستان کا عام شہری بجلی کے بلوں، آٹے کے بحران اور ادویات کی مہنگائی کے بوجھ تلے سسک رہا ہے۔

کیا 25 کروڑ عوام کی تقدیر کا فیصلہ ان بند کمروں میں ہوگا جہاں عام آدمی کی آواز پہنچ ہی نہیں پاتی؟ اشرافیہ کے ٹھاٹ باٹھ دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ شاید ان کے لیے ملک کے معاشی حالات کوئی معنی نہیں رکھتے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم پورا ملک ان چند مفاد پرست گروہوں کے شکنجے میں یوں ہی سسکتا ہوا چھوڑ دیں گے؟

​تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قومیں وسائل سے نہیں، بلکہ ارادوں سے بنتی ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جرمنی کا نقشہ دیکھیں تو وہاں صرف ملبہ اور راکھ بچی تھی۔ ان پر قرضوں کا پہاڑ تھا اور انفرااسٹرکچر نام کی کوئی چیز باقی نہ تھی۔ لیکن جرمن قوم نے ’’قومی ایمرجنسی‘‘ کو ایک جذبے میں بدلا۔ انہوں نے سیاست اور گروہ بندی کو ایک طرف رکھ کر صرف محنت کو اپنا شعار بنایا اور آج وہی ملک دنیا کی معیشت کا دھارا طے کرتا ہے۔

اسی طرح ترکیہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ دو دہائیاں قبل وہاں افراطِ زر کا طوفان تھا اور آئی ایم ایف کا سب سے بڑا قرضہ ان کے سر پر تھا۔ مگر جب وہاں کی قیادت نے اپنی انا کی قربانی دی اور عوام نے ایک قوم بن کر ریاست کا ساتھ دیا، تو انہوں نے نہ صرف وہ قرض اتارا بلکہ آئی ایم ایف کے دفتر کو ہمیشہ کے لیے تالا لگا دیا۔ کیا ہم میں وہ اجتماعی شعور ختم ہو چکا ہے جو کسی قوم کو بحرانوں سے نکالتا ہے؟

​قرض محض ایک رقم نہیں ہوتی، یہ ایک ایسی ذہنی غلامی ہے جو آپ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتی ہے۔ جب ریاست مقروض ہوتی ہے، تو اس کی خارجہ پالیسی اپنے ملک کے مفاد میں نہیں بلکہ قرض دینے والوں کی مرضی کے مطابق بنتی ہے۔ ہم عالمی برادری میں اس لیے سر اٹھا کر بات نہیں کر پاتے کیونکہ ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر ناراضی ہوئی تو اگلی قسط رک جائے گی اور ملک معاشی طور پر بیٹھ جائے گا۔ یہ معاشی بیڑیاں ہمارے ایٹمی وقار کو گہنا رہی ہیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اصل آزادی 1947 میں حاصل کی گئی زمین کے ٹکڑے کا نام نہیں، بلکہ اپنے فیصلوں میں خود مختار ہونے کا نام ہے۔

​اس مشکل گھڑی میں ہمارے وہ بھائی جو سات سمندر پار بیٹھے ہیں، وہ ہمارا سب سے بڑا سہارا ہیں۔ سمندر پار پاکستانیوں کا خلوص شک و شبہ سے بالاتر ہے جو اپنی محنت کی کمائی اس امید پر ملک بھیجتے ہیں کہ شاید یہاں کے حالات بدل جائیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہم نے ان کے لیے وہ ماحول فراہم ہی نہیں کیا جہاں وہ کھل کر سرمایہ کاری کر سکیں۔ بیوروکریسی کی رکاوٹیں، نظام کی پیچیدگیاں اور عدم تحفظ انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اگر ریاست ان تارکینِ وطن کو سہولتیں اور تحفظ فراہم کرے، تو ہمیں کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کے سفیر ہیں، لیکن ہم نے انہیں صرف ’’ترسیلاتِ زر‘‘ کا ذریعہ سمجھ لیا ہے۔

​اگر ہم واقعی ان زنجیروں سے آزادی چاہتے ہیں، تو اب ہمیں زبانی دعوؤں سے نکل کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی زراعت کو اس کی کھوئی ہوئی پہچان واپس دلانی ہوگی۔ یہ کتنی بڑی ناکامی ہے کہ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم بنیادی غذائی اجناس باہر سے منگوا رہے ہیں۔ جب تک ہم اپنے کسان کو سہولت نہیں دیں گے اور اپنی زمین سے سونا نہیں نکالیں گے، ہم معاشی طور پر کبھی آزاد نہیں ہو پائیں گے۔ اسی طرح آئی ٹی کا شعبہ ہمارے نوجوانوں کے لیے ایک بہت بڑا میدان ہے جہاں وہ پوری دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔ اگر حکومت صرف سستا انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی تک رسائی ممکن بنا دے، تو ہمارے نوجوان فری لانسنگ کے ذریعے ملک میں ڈالرز کی برسات کرسکتے ہیں۔

​اب وقت آگیا ہے کہ ہم ’قوم‘ بننے کا فیصلہ کریں۔ ہمیں سیاست کو ریاست کے تابع کرنا ہوگا۔ جب تک ججوں، جرنیلوں، بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کو دی جانے والی مفت بجلی، پٹرول اور شاہانہ پروٹوکول کا کلچر ختم نہیں ہوگا، تب تک عام آدمی سے قربانی کی توقع رکھنا ظلم ہے۔ ہمیں ایک ایسا نظام وضع کرنا ہوگا جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو۔ تاریخ ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے؛ یا تو ہم متحد ہو کر ان معاشی زنجیروں کو توڑ دیں، یا پھر ہمیشہ کے لیے دوسروں کے دستِ نگر رہیں۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہمیں قرض کی ذلت میں جینا ہے یا خود داری کے راستے پر چل کر ایک حقیقی معاشی اور ایٹمی طاقت بن کر ابھرنا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔