ایران نے آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کے زیر انتظام ایک بحری جہاز پر حملے اور آگ لگنے کے واقعے میں ملوث ہونے کے الزامات کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔
سیئول میں ایرانی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اسلامی جمہوریہ کی مسلح افواج کے جنوبی کوریائی جہاز کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہونے کے تمام الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور ایران دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔
ایرانی سفارت خانے کے مطابق موجودہ کشیدہ صورتحال میں امریکا اور اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کے باعث ایران اب آبنائے ہرمز کو اپنی دفاعی جغرافیائی حدود کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دشمن قوتوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے اس اہم بحری گزرگاہ میں سیکیورٹی پروٹوکولز تبدیل کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ جہاز میں دھماکے اور آگ لگنے کی اصل وجہ کا تعین اُس وقت کیا جائے گا جب متاثرہ جہاز کو بندرگاہ تک پہنچا دیا جائے گا اور مکمل تحقیقات مکمل ہوں گی۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریائی کارگو جہاز پر فائرنگ کی۔ تاہم ایران نے ان دعوؤں کی واضح طور پر تردید کردی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی بحری تجارت اور توانائی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ خطے میں امریکا، ایران اور اتحادی ممالک کے درمیان تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔