9سال میں وزارت ہاؤسنگ میں 9 ارب سے زائد کی بے ضابطگیوں کے سوا کوئی منصوبہ مکمل نہ ہوسکا

جن الا ٹیز نے پیسے جمع کروائے جو چاہے اسے مارک اپ کے بغیر پیسے واپس کر رہے ہیں، سیکرٹری ہاؤسنگ


ضیغم نقوی May 07, 2026

اسلام آباد:

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ 9سال میں وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے 9 ارب سے زائد کی بے ضابطگیوں کے علاوہ کوئی بھی منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس شاہدہ اختر کی زیر صدارت ہوا۔ کمیٹی کو آڈٹ حکام نے بتایا کہ ایف 14-15 کی ڈویلپمنٹ، گرین انکلیو ون بارہ کہو، لائف سٹائل ریزیڈنسی اپارٹمنٹس بیدیاں روڈ لاہور، پارک روڈ ہاؤسنگ اسکیم، چکلالہ ہائٹس ریزیڈینشل اپارٹمنٹس، سری نگر ہائی وے پر جی 13کی ڈویلپمنٹ سمیت راولپنڈی ائیرپورٹ کے اسکائی لائن منصوبے مکمل نہیں ہو سکے۔

کمیٹی میں پیش دستاویزات کے مطابق ایف 14-15 کی ڈویلپمنٹ صرف پانچ فیصد، گرین انکلیو ون بارہ کہو 54 فیصد، لائف اسٹائل ریزیڈنسی اپارٹمنٹس بیدیاں روڈ لاہور 9.02فیصد، پارک روڈ ہاؤسنگ اسکیم 66 فیصد، چکلالہ ہائٹس ریزیڈینشل اپارٹمنٹس 26.56فیصد، سری نگر ہائی وے پر جی 13کی ڈویلپمنٹ16.27 فیصد جبکہ راولپنڈی ائیرپورٹ کے اسکائی لائن منصوبے پر صرف24.05فیصد کام مکمل ہوسکاہے۔

کمیٹی کو سیکرٹری ہاؤسنگ کیپٹن محمود نے بریفنگ میں بتایا کہ کوشش ہے جلد منصوبے بیک آن ٹریک کر دیں گے، جن الا ٹیز نے پیسے جمع کروائے جو چاہے اسے مارک اپ کے بغیر پیسے واپس کر رہے ہیں۔

ممبر کمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ وزیر اعظم کا اپنا گھر منصوبہ کس نے کرنا ہے؟ آپ کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ یہ ادارہ فیل ہے، کیا کوئی رپورٹ وزیراعظم کو بنا کے دی ہے کہ یہ ادارہ تو دیوالیہ ہے؟ بری امام کو پورا آپ نے فلیٹ کر دیا ہے، اس پر سیکریٹری ہاؤسنگ نے بتایا کہ یہ گھر منسٹری نے نہیں بنانے، فنانسنگ کمرشل بینکوں نے کرنا ہے، اپنا گھر اسکیم کی فوکل منسٹری ہاوٴسنگ ہے، گھر پرائیویٹ سیکٹر میں بننے ہیں، یہ پراجیکٹس 2017 کے آگے پیچھے شروع ہوئے ہیں اور کوئی بھی مکمل نہیں ہوا۔

ڈی جی ایف جی ایچ اے نے بتایا ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف 14 ایف 15 کا منصوبہ اب نئے کنٹریکٹر کو دیا ہے، این ایل سی کو 3600 کنال زمین 10 مئی کو حوالے کرنا ہے، 8 ہزار کنال کا پارک روڈ ہاؤسنگ اسکیم 2028 میں مکمل ہوگا۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ انہی منصوبوں میں سے پارک روڈ ہاؤسنگ اسکیم کے حوالے سے ابتدائی سروے میں بے ضابطگیاں سامنے آئیں جس سے قومی خزانے کو 4,775ارب کا نقصان ہوا ہے، 8194 کنال 15مرلے ایکوائر کرنے کے فیصلے کے بعد 02-11-2022 کو بورڈ میٹنگ میں بتایا گیا کہ صرف 4500 کنال زمین ایکوائر کی گئی تاہم آڈٹ حکام نے کہا ہے کہ دراصل صرف1047کنال زمین کا قبضہ لیا گیا۔

زمین ایکوائر کرنے کے معاملے کو درست قرار دیتے ہوئے سیکریٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے بتایا کہ اب 90 فیصد زمین کا قبضہ لیا جا چکا ہے۔ ممبران کمیٹی نے کہا کہ غلط انفارمیشن دے کر ادارے کو نقصان کرنے کے ذمہ داران کا تعین کیا گیا؟

اس موقع پر ایف آئی اے کے نمائندے جمیل دایو نے کمیٹی کو بتایا کہ ایسے منصوبوں پر انکوائری کے لیے پی اے سی صرف ایک ماہ کی ہدایات دے، تاخیر سے کیسز خراب ہو جاتے ہیں، 21 فروری 2025ء کو مقدمہ درج ہوا اور کنٹریکٹرز سمیت 8 ملزمان کو گرفتار کیا گیا تاہم اب تمام ملزمان ضمانت کروا چکے ہیں۔

پی اے سی نے سیکریٹری ہاؤسنگ کو ایک ماہ میں انکوائری اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کی ہدایات کردی۔