عمارتوں کے مستقل انہدام سے مستقبل میں ہیریٹیج عمارتوں کا تصور خطرے سے دوچار

عمارتیں اپنی ثقافتی اور تاریخی شناخت قائم ہونے سے پہلے ہی تبدیل یا مسمار کر دی جاتی ہیں، ماہر تعمیرات


آصف محمود May 08, 2026

معروف ماہر تعمیرات ڈاکٹر غافر شہزاد نے کہا ہے کہ تیزی سے بدلتے شہری ڈھانچے، مسلسل انہدام اور نئی تعمیرات کے رجحان کے باعث مستقبل میں ہیریٹیج عمارتوں کا تصور خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے کیونکہ عمارتیں اپنی ثقافتی اور تاریخی شناخت قائم ہونے سے پہلے ہی تبدیل یا مسمار کر دی جاتی ہیں۔

غافر شہزاد نے داتا دربار کی توسیع اور مختلف ادوار میں ہونے والی تعمیراتی تبدیلیوں کو مثال بناتے ہوئے کہا کہ تاریخی عمارتیں صرف اینٹوں اور پتھروں کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ شہروں، گلیوں اور سماج کی شناخت کی علامت بھی ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار کی اصل شناخت وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی گئی۔ ابتدا میں مزار ایک سادہ آٹھ پہلو پلیٹ فارم پر مشتمل تھا، جس کے گرد بعد میں جالیاں، گنبد اور دیگر تعمیرات شامل کی گئیں تاہم مختلف ادوار میں ہونے والی توسیع کے باعث پرانی شناخت ختم ہوتی چلی گئی۔

غافر شہزاد کے مطابق داتا دربار کے اطراف موجود کئی تاریخی مقامات اور عمارتیں بھی توسیعی منصوبوں کی نذر ہوئیں، جن میں قرآن محل، پرانی مسجد، بہاولپوری مسجد، اسلامیہ ہائی سکول نمبر 2 کی عمارت اور متعدد قدیمی دکانیں شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان عمارتوں کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو محفوظ رکھنے کے بجائے انہیں مسمار کر دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ مختلف حکومتوں کے ادوار میں داتا دربار کمپلیکس کے نقشے اور تعمیراتی منصوبے بھی بارہا تبدیل ہوتے رہے۔ کبھی دکانیں تعمیر کی گئیں، پھر انہیں گرا کر سماع ہال بنایا گیا اور بعد ازاں دوبارہ تبدیلیاں کی گئیں، جس سے منصوبہ بندی کا عدم تسلسل واضح ہوتا ہے۔

غافر شہزاد نے کہا کہ بعد میں تعمیر کیے گئے روف گارڈن اور دیگر ڈھانچوں میں بھی تکنیکی مسائل سامنے آئے، جن میں پانی کے رساؤ اور تعمیراتی خرابیوں کے باعث عمارت کو نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق اب ایک بار پھر کمپلیکس میں نئی تعمیرات اور تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاکہ ٹریفک اور رش کے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ آثارِ قدیمہ کے اصولوں کے مطابق اگر کوئی عمارت 75 برس تک اپنی اصل تعمیراتی، ثقافتی اور تاریخی حیثیت برقرار رکھے تو اسے ہیریٹیج عمارت قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن موجودہ رجحانات کے باعث خدشہ ہے کہ مستقبل میں ایسی عمارتیں کم ہوتی جائیں گی جو ماضی کی نمائندگی کر سکیں۔

غافر شہزاد نے کہا کہ مغل، سکھ اور برطانوی ادوار کی عمارتیں آج بھی اپنے زمانے کی گواہی دیتی ہیں، تاہم یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان میں ایسی عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے تاریخی ورثہ بن سکیں۔