شمالی کوریا کے حکمراں کا قتل ہوا تو فوج کو ایٹم بم چلانے کا اختیار مل جائے گا؛ آئین

شمالی کوریا کو خدشہ ہے کہ کم جونگ ان کو بھی آیت اللہ خامنہ ای کی طرح نشانہ بنایا جا سکتا ہے


ویب ڈیسک May 08, 2026
بیلسٹک میزائل تجربہ اُس وقت کیا گیا جب جاپانی وزیر خارجہ جنوبی کوریا کے دورے پر ہیں

شمالی کوریا نے اپنے جوہری قوانین میں ایک انتہائی خطرناک اور غیر معمولی تبدیلی کی ہے جس سے دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کے آئین میں تبدیلی کی گئی ہے کہ اگر ملک کے حکمراں کم جونگ ان کو قتل کیا گیا یا وہ حملے کے باعث حکمرانی کے قابل نہ رہے تو ملک خودکار طور پر فوری جوہری حملہ کردے گا۔

برطانوی اخبار دی سن کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ آئینی ترمیم 22 مارچ کو منظور کی گئی تھی تاہم اسے اب پہلی بار عوام کے سامنے لایا گیا ہے۔

نئی شق شمالی کوریا کے جوہری پالیسی قانون کے آرٹیکل 3 میں شامل کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر دشمن قوتوں کے حملے سے ریاستی جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم خطرے میں پڑتا ہے تو خودکار اور فوری جوہری حملہ کیا جائے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس نئی پالیسی کی وجہ حالیہ علاقائی کشیدگی اور ایران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والے حالات کو قرار دیا جا رہا ہے۔

شمالی کوریا کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں ان کی اعلیٰ قیادت کو بھی اسی نوعیت کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

باوجود اس کہ شمالی کوریا میں خفیہ معلومات اکٹھی کرنا اور اعلیٰ قیادت تک رسائی حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے کیونکہ ملک کی سرحدیں دنیا کے لیے تقریباً بند ہیں اور وہاں داخل ہونے والے غیر ملکیوں کی سخت نگرانی کی جاتی ہے۔

اس لیے کسی بیرونی کارروائی کے ذریعے کم جونگ اُن یا ان کے قریبی حلقے کو نشانہ بنانا آسان نہیں ہوگا۔

دوسری جانب شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی سرحد کے قریب ایک نئے طرز کا 155 ملی میٹر خودکار توپ خانہ بھی تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے جس کی مار 60 کلومیٹر سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق کم جونگ اُن نے اس نئے ہتھیار کی تیاری کا معائنہ کیا اور کہا کہ یہ شمالی کوریا کی زمینی جنگی صلاحیتوں میں اہم تبدیلی لائے گا۔