متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت نے کہا ہے کہ بھارتی فوجی کراچی کی شادیوں اور سال نو پر ہونے والے فائرنگ کی آوازیں سُن کر کراچی کا رخ نہیں کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے زیرِ اہتمام معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر کراچی پریس کلب کے سامنے عظیم الشان مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں عوام اور کارکنان بڑی تعداد میں شریک ہوئے اور پیغام دیا کہ معرکہ حق میں پاکستان نے صرف دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا بلکہ ملک میں اتحاد کی نئی فضا قائم کردی۔
مظاہرے کے شرکاء کی جانب سے پرتپاک استقبال کا خیر مقدم کرتے ہوئے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آزادی اللّہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے جس کی حفاظت کے لئے پاکستان نے گزشتہ ایک سال میں ناقابلِ فراموش تاریخ رقم کی ہے۔
انہوں نے کہا دشمن نے ہم پر جنگ مسلط کرنے کی جسارت کی تھی لیکن پھر اس کی مدت، شدت اور عبرتناک انجام کا فیصلہ ریاستِ پاکستان نے اپنی مرضی سے کیا، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی بصیرت افروز قیادت میں پاک فوج فضائیہ اور بحریہ نے جرات و حکمت کی وہ مثال قائم کی جس نے نہ صرف ملک کا دفاع کیا بلکہ پورے خطے کو ایک ہولناک تباہی سے محفوظ رکھا۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج پاکستان کا دفاع پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط مستقل اور غیر متزلزل ہے، آزادی کوئی رعایت نہیں ایک اٹل حقیقت ہے۔
سینئر مرکزی رہنماء سید مصطفیٰ کمال نے اپنے مخصوص لب و لہجے میں بھارت کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ دہلی کے ایوانوں میں یہ غلط فہمی تھی کہ پاکستان اندرونی خلفشار اور معاشی مسائل کی وجہ سے کمزور ہو چکا ہے مگر معرکہ حق کے ان پانچ دنوں نے ثابت کیا کہ ہم ایک زندہ جاوید قوم ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس جنگ نے ثابت کیا کہ دشمن کے سامنے نہ کوئی لسانی اکائی تھی نہ مسلکی گروہ سب صرف پاکستانی بن کر لڑے، بھارت کا یہ گمان ٹوٹ گیا کہ پاکستان صرف ایٹمی ہتھیاروں کے سہارے ہے ہم نے روایتی جنگی مہارت میں بھی اسے چاروں شانے چت کر کے دکھا دیا۔
مصطفیٰ کمال نے خطاب میں کہا کہ میں کہتا ہوں اگر بھارت کراچی آنا چاہے تو اُس کا راستہ نہ روکیں بلکہ آنے دیں، بھارتی فوجی کراچی کے سال نو کا جشن اور پختونوں کی شادیوں میں ہونے والی فائرنگ کی آوازیں سن کر یہاں نہیں آئیں گے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے خطاب میں اس معرکے کو محض ایک سرحدی جھڑپ کے بجائے ایک جامع ہائبرڈ وار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے میڈیا سفارت کاری اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی مگر اللّہ کے فضل سے بھارت کا جھوٹا بیانیہ دم توڑ گیا۔
ان کا کہنا تھا ابھی نندن کی رسوائی اور دشمن کے جہازوں کا گرنا محض اتفاق نہیں ہماری پیشہ ورانہ مہارت کا شاہکار تھا، ہم نے میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو بتا دیا کہ امن کی خواہش کو ہماری کمزوری سمجھنے والے خود اپنی تباہی کو دعوت دیں گے، آج پاکستان سفارتی اور عسکری دونوں محاذوں پر سرخرو ہے۔
مظاہرے کے اختتام پر شہدائے وطن کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ سرحدوں پر بہنے والا خون ہی ہماری عزت اور استحکام کی بنیاد ہے۔
ایم کیو ایم قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اب اس عظیم عسکری کامیابی کو معاشی خوشحالی مضبوط جمہوریت اور عوامی فلاح میں تبدیل کرنے کا وقت آ گیا ہے، کراچی کے عوام نے آج ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ کراچی پاکستان کا معاشی ہی نہیں نظریاتی دفاعی حصار بھی ہے۔