ایران نے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک تہران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل درآمد کریں گے انہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان اکرمی نیا نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کو نافذ کرنے والے ممالک یقینی طور پر آبنائے ہرمز میں مشکلات سے دوچار ہوں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ جنگ کے دوران دشمن اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکا اور ایران کے سیاسی نظام کا توازن بھی متاثر نہیں ہوا۔
ان کے مطابق جنگ کے نتیجے میں ایران کے اندر اتحاد اور یکجہتی مزید مضبوط ہوئی، جس کا مظاہرہ عوام کی بڑی تعداد میں سڑکوں پر موجودگی سے دیکھا جا سکتا ہے۔
اکرمی نیا کا کہنا تھا کہ مخالف قوتیں ایران کی مزاحمت کو توڑنے میں ناکام رہیں اور بالآخر انہیں جنگ بندی قبول کرنا پڑی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے دوران ایران نے اپنی عسکری صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا، نئے اہداف کی فہرست تیار کی اور دفاعی و جارحانہ پوزیشنز کو اپ ڈیٹ کیا ہے۔
ایرانی فوجی ترجمان کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی حساس صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی توانائی سپلائی کا بڑا حصہ اسی اہم بحری راستے سے گزرتا ہے، اس لیے ایران کی جانب سے دی گئی کسی بھی وارننگ پر عالمی منڈیاں اور مغربی ممالک گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے باوجود خطے میں تناؤ برقرار ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت اور تیل کی ترسیل عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔