امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیرملکی نژاد امریکی شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے کی مہم کو مزید وسیع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق حکومت نے درجن بھر ایسے شہریت حاصل کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائیاں شروع کردی ہیں جن پر فراڈ، دہشتگردی سے تعلق، مالی جرائم اور دیگر سنگین الزامات عائد ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ ان افراد نے امریکی شہریت حاصل کرتے وقت اہم معلومات چھپائیں یا غلط بیانی کی، جو اگر پہلے سامنے آجاتی تو انہیں شہریت نہ دی جاتی۔
ان مقدمات میں بھارتی نژاد کاروباری شخصیت دیباشیس گھوش بھی شامل ہیں جن پر تقریباً 25 لاکھ ڈالر کے سرمایہ کاری فراڈ کا الزام ہے۔ امریکی حکام کے مطابق انہوں نے امریکی شہریت حاصل کرنے سے پہلے اور بعد میں سرمایہ کاروں کو دھوکا دیا اور فنڈز کے استعمال سے متعلق غلط معلومات فراہم کیں۔
رپورٹس کے مطابق اس نئی مہم کے تحت دہشتگردی، جنگی جرائم اور اسلحہ اسمگلنگ سے متعلق کیسز بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔ یہ مقدمات امریکی محکمہ انصاف کے آفس آف امیگریشن لٹیگیشن، امریکی شہریت و امیگریشن سروسز اور مختلف ریاستوں کے وفاقی پراسیکیوٹرز کے تعاون سے دائر کیے گئے ہیں۔
امریکا میں شہریت منسوخ کرنے کے عمل کو ڈی نیچرلائزیشن کہا جاتا ہے، جو قانونی طور پر ایک پیچیدہ اور نایاب عمل سمجھا جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1990 سے 2017 تک صرف 300 سے زائد ایسے مقدمات دائر کیے گئے تھے، تاہم موجودہ مہم کو غیرمعمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ دھوکے یا غلط بیانی کے ذریعے حاصل کی گئی شہریت امیگریشن نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے، اس لیے ایسے افراد کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔
دوسری جانب شہری آزادیوں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اس مہم سے تارکین وطن میں خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا ہوسکتی ہے، جبکہ بہت سے لوگ امریکی شہریت حاصل کرنے سے بھی ہچکچا سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اگرچہ موجودہ مقدمات میں پاکستانی شہری شامل نہیں، تاہم بھارتی نژاد شہری کے خلاف کارروائی نے جنوبی ایشیائی کمیونٹی میں تشویش پیدا کردی ہے۔