’سپریم کورٹ آرڈر کی خلاف ورزی‘،ون کانسٹیٹیوشن ایونیو اپارٹمنٹ مالکان کی اپیل پرسی ڈی اے سےجواب طلب

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کی


ویب ڈیسک May 12, 2026

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے اپارٹمنٹ مالکان کی انٹرا کورٹ اپیل پر سی ڈی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کی۔

اپیل کنندہ کے وکیل تیمور اسلم نے مؤقف اپنایا کہ لیز منسوخی کو درست قرار دینے کی حد تک فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں، تھرڈ پارٹی رائٹس سے متعلق عدالت کی آبزرویشن پر انٹرا کورٹ اپیل دائر کی گئی ہے۔

وکیل نے کہا کہ عدالت نے توقع ظاہر کی تھی کہ سی ڈی اے اور تھرڈ پارٹی قابل قبول حل تک پہنچ جائیں گے، سی ڈی اے چاہتا ہے کہ قابل قبول حل کی طرف جانا ہی نہ پڑے۔

وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی کاپی ملنے سے قبل ہی سی ڈی اے نے بلڈنگ میں داخل ہو کر تالے توڑ دیے، لیز منسوخی کے بعد سی ڈی اے کی جانب سے جاری پریس ریلیز بھی عدالت میں پیش کی گئی۔

وکیل کے مطابق سی ڈی اے نے روزمرہ امور چلانے کے لیے رہائشیوں پر مشتمل کمیٹی بنانے کا کہا تھا، 2023 سے سی ڈی اے کے ساتھ مل کر رہائشیوں پر مشتمل کمیٹی روزمرہ امور چلا رہی ہے۔

وکیل نے بتایا کہ ایک بلڈنگ کے دو ٹاورز ہیں جن میں 240 اپارٹمنٹس موجود ہیں، تیمور اسلم ایڈوکیٹ کے مطابق جب بلڈنگ بن رہی تھی تو سی ڈی اے کو کوئی اعتراض نہیں تھا، اس پراجیکٹ میں اوورسیز پاکستانیوں نے اپنی جمع پونجی سے سرمایہ کاری کی۔

انہوں نے کہا کہ بی این پی سے اپارٹمنٹ مالکان کا کوئی تعلق نہیں، بلڈنگ میں ڈپلومیٹس اور فیملیز بھی رہائش پذیر ہیں۔

جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے 2019 کے آرڈر کی واضح خلاف ورزی ہوئی، اس کے کیا نتائج ہوں گے۔

وکیل نے کہا کہ سی ڈی اے کو تھرڈ پارٹی کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ پلان آف ایکشن دینے کا کہا گیا تھا، سی ڈی اے اس معاملے کو ہاتھ نہیں لگائے گا کیونکہ یہ نیب اور ایف آئی اے کا کیس بنتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایک کمیٹی بنائی ہے جس کی سفارشات کے بعد کابینہ سے منظوری ہوگی، وکیل نے استدعا کی کہ کمیٹی کی سفارشات آنے تک تادیبی کارروائی سے روکا جائے۔

عدالت نے انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ملتوی کرتے ہوئے اسٹے آرڈر کی درخواست پر فیصلہ بعد میں جاری کرنے کا عندیہ دیا۔