امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ آج کانگریس کی دفاعی ذیلی کمیٹی میں پیش ہوئے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کیے گئے 1.5 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کا بھرپور دفاع کیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جواز پیش کیا کہ صدر ٹرمپ کی دفاعی بجٹ کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کی خطیر رقم امریکا کو دنیا کی سب سے طاقتور اور قابل فوجی قوت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے جوبائیڈن حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو ایک ایسا دفاعی صنعتی ڈھانچہ ورثے میں ملا جو برسوں کی ’’امریکا سب سے آخر میں‘‘ کی پالیسیوں کے باعث کمزور ہو چکا تھا۔
ان کے بقول اب پینٹاگون اس زوال کو ختم کرکے امریکی فوج اور دفاع کو ’’جنگی بنیادوں‘‘ پر دوبارہ استوار کر رہا ہے۔ جس کے لیے صدر ٹرمپ کے 1.5 ٹریلین ڈالر کے بجٹ کا منظور ہونا بے حد ضروری ہے۔
جب کانگریس اراکین نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے سوال کیا کہ اگر کانگریس حکومت کو ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشنز کی منظوری نہ دے تو آپ کے پس کیا ’’پلان بی‘‘ موجود ہے؟
اس پر امریکی وزیر دفاع نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ہر صورتحال کے لیے منصوبہ موجود ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو ہمارے پاس جنگ میں شدت لانے کا بھی پلان ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت ہوئی تو ایران جنگ سے امریکی فوجی انخلا اور عسکری اثاثوں کی منتقلی کا بھی مکمل منصوبہ موجود ہے۔
تاہم پیٹ ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حساس صورتحال میں وہ آئندہ اقدامات کی تفصیلات ظاہر نہیں کرسکتے کیونکہ صدر ٹرمپ کا مشن یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔
پیٹ ہیگستھ نے ایران پر امریکی فوجی کارروائیوں کو مقدس مشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ خدا امریکی افواج کی حفاظت کرے اور امریکا ان فوجیوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے جنھوں نے اپنی جانیں دیں۔
یاد رہے کہ 1.5 ٹریلین ڈالر کا مجوزہ دفاعی بجٹ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا عسکری بجٹ ہوگا جو موجودہ دفاعی اخراجات کے مقابلے میں تقریباً 44 سے 50 فیصد زیادہ ہے۔
اس بجٹ میں جدید ہتھیاروں، میزائل دفاعی نظام، بحری قوت، مصنوعی ذہانت، سائبر وارفیئر اور بحرالکاہل خطے میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے اضافی سرمایہ کاری شامل ہے۔
کانگریس میں ہونے والی سماعت کے دوران ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں پر بھی سخت سوالات اٹھائے گئے۔ بعض ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان نے جنگی اخراجات، یوکرین کے لیے فوجی امداد، یورپ میں امریکی فوجی موجودگی اور دفاعی بجٹ کی شفافیت پر تحفظات کا اظہار کیا۔
کئی قانون سازوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ حالیہ تنازع کے باعث امریکی اسلحہ ذخائر، خصوصاً ٹوماہاک میزائلوں اور پیٹریاٹ دفاعی نظام کے ذخائر میں کمی آئی ہے، جنہیں دوبارہ بھرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔