ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور امن مذاکرات میں تعطل کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت میں 3.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد قیمت 107.68 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 3.6 فیصد اضافے کے ساتھ 101.61 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔
تیل قیمتوں کو ظاہر کرنے والے یہ دونوں عالمی بینچ مارکس آج یعنی پیر کے روز بھی تقریباً 3 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئے تھے۔ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جلد کم نہیں ہونے والی ہیں۔
ادھر سعودی تیل کپنی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں استحکام کی بحالی 2027 تک مؤخر ہوسکتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ روزانہ کروڑوں بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خطرہ موجود ہے جس سے ترسیلی نظام کمزور پڑ گیا ہے اور اسے اپنی پرانی حالت میں واپس آنے میں کافی عرصہ لگ سکتا ہے۔
اسی طرح کے جی ایم ٹریڈ کے تجزیہ کار ٹم واٹریر نے کہا کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان حقیقی پیش رفت ہوئی اور امن معاہدہ طے پا گیا تو تیل کی قیمتوں میں 8 سے 12 ڈالر فی بیرل تک فوری کمی آسکتی ہے۔
تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال مزید بگڑی یا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا خطرہ پیدا ہوا تو برینٹ کروڈ تیزی سے 115 ڈالر فی بیرل یا اس سے اوپر جاسکتا ہے۔
دوسری جانب عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کار حلقوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں طویل کشیدگی سے نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھیں گی بلکہ عالمی افراطِ زر، شپنگ لاگت اور صنعتی پیداوار بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور ایران جنگ سے ایشیائی اور یورپی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی غیر یقینی صورتحال کے باعث اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل سپلائی کا تقریباً ایک تہائی حصہ گزرتا ہے۔
ایران کی جانب سے بارہا اس اہم سمندری راستے کو بند کرنے یا محدود کرنے کی دھمکیوں نے مارکیٹ میں بے چینی بڑھا دی ہے۔