صومالیہ میں قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے اہل خانہ کی بھوک ہڑتال کی دھمکی

حکومت نے اب تک کوئی ذمہ داری ادا نہیں کی، اعلیٰ سطح کا کمیشن بنایا جائے، فیملیز کا بازیابی کیلیے احتجاج مظاہرہ


عامر خان May 13, 2026

صومالیہ میں 23 روز سے قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بحری جہاز پر سوار پاکستانیوں کے اہل خانہ نے پیاروں کی بازیابی کیلیے مظاہرہ کیا اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔

آنر 25 جہاز پر یرغمال بنائے گئے پاکستانیوں کے اہل خانہ، بچے، بوڑھے، خواتین اور نوجوان کیماڑی میں قائم نیٹی جیٹی پُل پر جمع ہوئے اور کہا کہ حکومت کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے اور نہ ہی کوئی رابطہ کیا گیا ہے۔

بحری جہاز پر یرغمال بنائے گئے سید یوسف حسین کے بھانجے طالب رضا نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر اپنی ذمہ داری ادا کرے کیونکہ اُس نے اب تک کوئی ذمہ داری ادا نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ یرغمال پاکستانیوں کی فیملیز دربدر کی ٹھوکریں کھارہی ہیں، ہم اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کیلیے کبھی پریس کانفرنس کرتے ہیں تو کبھی مظاہرے کررہے ہیں مگر حکومت ذمہ داری ادا کرنے کو تیار نہیں ہے۔

طالب نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر اپنی ذمہ داری ادا کرے اور اعلیٰ سطح کا کمیشن تشکیل دے کر فوکل پرسن تعینات کرے جو اہل خانہ سے رابطے میں رہے اور ریاست کی طرف سے داد رسی کرے اور یقین دہانی کرائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی تو پھر گھر کے بچے بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل صومالی قزاقوں نے سماجی رہنما انصار برنی سے رابطہ کر کے واضح کیا تھا کہ ہم صرف حکومتی نمائندے سے بات کریں گے۔

سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کے رکن اسمبلی معاذ محبوب نے پاکستانیوں کی بازیابی کیلیے قرارداد جمع کرائی جبکہ سابق رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد ایڈوکیٹ نے اپنے ایک بیان میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فیلڈ مارشل سے اس معاملے میں کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔