فلپائن کی سینیٹ میں شدید فائرنگ؛ عالمی عدالت کے حکم پر رکن کی گرفتاری کیلیے چھاپا

سینیٹ کو سیکیورٹی اہلکاروں نے حصار میں لے لیا ہے


ویب ڈیسک May 13, 2026
فلپائن کے سینیٹ میں آئی سی سی کا چھاپا؛ سابق پولیس چیف اور موجودہ سینیٹر کی گرفتاری کا امکان

فلپائن کی سینیٹ کی عمارت شدید فائرنگ کی آواز سے گونج اُٹھی اور افراتفری مچ گئی جب عالمی فوجداری عدالت کے حکم پر مسلح اہلکار سینیٹر ڈونالڈ ڈیلا روزا کو گرفتار کرنے پہنچے تھے اور چوہے بلی کا کھیل جاری تھا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فلپائن کی سینیٹ میں اس وقت شدید کشیدگی پھیل گئی جب عالمی فوجداری عدالت (ICC) کو مطلوب سینیٹر رونالڈ ڈیلا روزا کی گرفتاری کے لیے سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کی۔

فلپائنی سینیٹ میں مسلح پولیس اور میرین اہلکار سینیٹر رونالڈ ڈیلا روزا کو گرفتار کرنے کے لیے عمارت میں داخل ہوئے اور درجن سے زائد گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں جس کے بعد صحافیوں اور عملے کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

الجزیرہ کی نمائندہ جمیلہ علیندگون نے بتایا کہ تقریباً 15 فائر کیے گئے جس کے بعد میڈیا نمائندوں کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا۔ بعد ازاں سینیٹ کی عمارت خالی کرالی گئی۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فائرنگ کس کی جانب سے کی گئی۔

سابق پولیس چیف اور موجودہ سینیٹر رونالڈ ڈیلا روزا نے اس چھاپے سے قبل ایک ویڈیو پیغام میں اپنے حامیوں سے اپیل کی تھی کہ عوام سینیٹ پہنچ کر ان کی گرفتاری روکیں۔ میری مدد کریں، ایک اور فلپائنی کو دی ہیگ نہ لے جانے دیں۔

یاد رہے کہ ڈیلا روزا سابق صدر کے دور میں پولیس چیف تھے اور ان کی متنازع منشیات کے خلاف جنگ کے مرکزی کردار بھی سمجھے جاتے ہیں اور اس آپریشن کے دوران ان پر انسانی حقوق کے سنگین الزامات لگے۔

جس پر عالمی فوجداری عدالت نے گزشتہ برس نومبر میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں ان کے وارنٹِ گرفتاری جاری کر رکھا ہے۔ وہ سینیٹ میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ 

یاد رہے کہ انھی الزامات کے تحت سابق صدر روڈریگو دوتیرتے پہلے ہی گزشتہ سال گرفتار ہو کر عالمی عدالت دی ہیگ میں ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

ڈیلا روزا نے منگل کو فلپائن کے موجودہ صدر سے اپیل کی تھی کہ انھیں آئی سی سی کے حوالے نہ کیا جائے کیوں کہ وہ اپنے ملک میں انصاف کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

گرفتاری کے خوف سے سینیٹ کے دفتر میں پناہ لینے والے ڈیلا روزا جذباتی انداز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔

انھوں نے کہا کہ میں نے ملک کے لیے سب کچھ کیا۔ میں نے اپنے لیے دولت جمع نہیں کی اور منشیات فروشوں کے خلاف آپریشن کے دوران میں نے دیانت داری سے کام کیا تھا اور ماورائے عدالت میں ملوث نہیں۔

ڈیلا روزا نے موجودہ صدر مارکوس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک دن آپ کو بھی ایسی صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے تب آپ میرے احساسات کو سمجھ سکیں گے۔

یاد رہے کہ سابق پولیس چیف اور موجودہ سینیٹر رونالڈ ڈیلا روزا کو ’’باتو‘‘ یعنی ’’چٹان‘‘ کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے اور وہ پیر سے سینیٹ کی حفاظتی تحویل میں تھے۔

فلپائن میں سابق صدر کی “وار آن ڈرگز” مہم کے دوران پولیس کے مطابق 6 ہزار سے زائد مشتبہ منشیات فروش مارے گئے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی اور ہزاروں افراد ماورائے عدالت قتل کا نشانہ بنے۔

دوسری جانب پولیس کا مؤقف رہا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد نے گرفتاری کے دوران مزاحمت کی تھی جبکہ حکومت مسلسل ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے کہ قتل منظم پالیسی کے تحت کیے گئے۔

یاد رہے کہ روڈریگو دوتیرتے نے 2016 کے صدارتی انتخابات میں سخت گیر “منشیات مخالف” مہم کے ذریعے کامیابی حاصل کی تھی اور وہ اکثر عوامی اجتماعات میں منشیات فروشوں کو قتل کرنے کے بیانات دیتے رہے تھے۔

سابق صدر کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ دوتیرتے بے قصور ہیں اور ان کا سخت لہجہ صرف جرائم پیشہ عناصر میں خوف پیدا کرنے کے لیے تھا تاہم اب سابق صدر روڈریگو دوتیرتے کے ماتحت پولیس چیف رونالڈ ڈیلا روزا کو بھی آئی سی سی کے وارنٹ گرفتاری کا سامنا ہے۔