ڈرگ ڈیلر پنکی سے متعلق پولیس رپورٹ عدالت میں جمع، ملزمہ کے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت جنوبی میں مقدمات کے معاملے پر پولیس کی ایک اور رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی گئی



 

وفاقی حساس ادارے اورپولیس کوکوکین کوئین انمول عرف پنکی کیس میں اہم کامیابی مل گئی، وفاقی حساس ادارے اورپولیس گلستان جوہرمیں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پنکی نیٹ ورک کے اہم کردارحراست میں لے لیا۔

تفتیشی حکام کے مطابق پنکی کے اہلخانہ کا بھی منشیات فروشی میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا۔

وفاقی حساس ادارے اورپولیس گلستان جوہرمیں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پنکی نیٹ ورک کے اہم کردار حراست میں لے لیا، زیر حراست شخص انمول عرف پنکی کے اکاؤنٹس سنبھالنے کا کام کرتا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منشیات کی فروخت سے حاصل کی جانے والی رقوم کو موبائل فرنچائز اور موبائل بیلنس کی آڑمیں منتقل کیا جاتا تھا۔

رقوم کی ادائیگی اوروصولی کے لیے نجی کمیونیکیشن کی فرنچائزاستعمال کی جاتی تھی جبکہ پنکی سے منشیات خریدنے کے لیے کسٹمرزآن لائن ایپ سے ادائیگی کرتے تھے۔

زیرحراست شخص کے بینک اکاؤنٹس اورآن لائن ادائیگی ایپس کی تفصیلات حاصل کرلی گئیں اورمشترکہ ٹیم زیرحراست ملزم سے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔

انمول عرف پنکی کا کیس ہائی پروفائل ہونے کی وجہ سے اہلخانہ کا ریکارڈ چیک کیا گیا توانمول عرف پنکی کے اہلخانہ کا بھی منشیات فروشی میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے اورپنکی کے اہلخانہ سے متعلق تفصیلات بھی حاصل کرلی گئیں ہیں۔

ریکارڈ کے مطابق پنکی کے 6 بھائی اور4 بہنیں ہیں، ملزمہ کے تین بھائی ریاض بلوچ،محمد ناصر،شوکت بخش منشیات فروشی میں ملوث ہیں تینوں بھائیوں کا مجرمانہ رکارڈ بھی سامنے آیا ہے۔

انمول عرف پنکی کا بھائی ملزم شوکت بخش منشیات فروشی کیلیے خاص کارندہ ہےپنکی کے تینوں بھائیوں کیخلاف اسلحہ آرڈیننس اورنارکوٹکس ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہیں۔

ملزم شوکت بخش 2024 میں بوٹ بیسن تھانے میں درج مقدمے میں گرفتارہوا تھا اورعدالت سے بری ہوا،ریاض بلوچ اورناصر کیخلاف سچل،گزری اوربوٹ بیسن تھانے میں مقدمت درج ہیں۔

پنکی کے بھائیوں کیخلاف تحقیقات کی جارہی ہیں،انمول عرف پنکی کی منشیات کی ترسیل کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

ذرائع کے مطابق پنکی ایک گرام کوکین 15 سے 20 ہزار روپے میں فروخت کرتی تھی ذرائع کے مطابق پنکی نئے کسٹمرکیلیے منشیات رائیڈرکے بجائے مخصوص جہگوں پر رکھواتی تھی کسٹمرزملزمہ کی بتائی ہوئی جگہ سے منشیات حاصل کرلیتا تھا۔

ملزمہ کا کراچی کے پوش علاقوں اور تعلیمی اداروں میں بھی منشیات کی ترسیل کیلیے 6 رکنی گینگ کام کرتا ہے جس میں ایک خاتون اور5 مرد شامل ہیں 6 رکنی گینگ کے علاوہ بھی ملزمہ منشیات کی خریدو فروخت کرتی تھی۔

ادھر انمول عرف پنکی کوعدالت میں خلاف ضابطہ پیش کرنے کے معاملے کی انکوائری کرنے والے ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے گزشتہ روزایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ ٹو، معطل ایس آئی او ظفراقبال اور تفتیشی افسر سعید احمد کے بیانات قلبند کرلیے۔

انکوائری افسر نے معطل اہلکاروں میں لیڈی کانسٹیبل کائنات اورمصباح کے بھی بیان ریکارڈ کیےانکوائری آفسرڈی آئی جی ویسٹ نے ایس ایس پی سٹی علی حسن اور ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال کوآج اپنے آفس طلب کرریکھا ہے۔

انکوائری آفسر ایس ایس پی سٹی اورایس ایچ او گارڈن کا تفصیلی بیان ریکارڈ کریں گے انکوائری افسر کا کہنا تھا کہ تمام پہلوؤں پر باریک بینی سے انکوائری کی جا رہی ہے انکوائری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

پولیس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملزمہ گینگ کے ذریعے اسکولوں کے کم عمر بچوں کو ہدف بناتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گینگ پوش علاقوں اور نجی تعلیمی اداروں کو سپلائی کرتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسکولوں اور کالجوں میں زیادہ خریدنے والوں کو رعایتی پیکج دیا جاتا تھا۔ پولیس کے مطابق تعلیمی اداروں میں ملزمہ کے نیٹ ورک کو روکنے کے لیے تفتیش ضروری ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پنکی کی نشاندہی پر تعلیمی اداروں میں اس کے سہولت کاروں کی شناخت کرنی ہے۔ عدالت نے پولیس رپورٹ کو کورٹ فائل کا حصہ بنا لیا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی میں انمول عرف پنکی کے مقدمات کے معاملے پر پولیس کی ایک اور رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی گئی۔

پولیس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملزمہ گینگ کے ذریعے اسکولوں کے کم عمر بچوں کو ہدف بناتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گینگ پوش علاقوں اور نجی تعلیمی اداروں کو سپلائی کرتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسکولوں اور کالجوں میں زیادہ خریدنے والوں کو رعایتی پیکج دیا جاتا تھا۔ پولیس کے مطابق تعلیمی اداروں میں ملزمہ کے نیٹ ورک کو روکنے کے لیے تفتیش ضروری ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پنکی کی نشاندہی پر تعلیمی اداروں میں اس کے سہولت کاروں کی شناخت کرنی ہے۔ عدالت نے پولیس رپورٹ کو کورٹ فائل کا حصہ بنا لیا۔

بین الصوبائی منشیات فروش انمول عرف پنکی کے مقدمات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

پولیس نے برآمدگی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی ہے، رپورٹ کے مطابق ملزمہ سے 1540 گرام کوکین، 5240 گرام بیکنگ پاؤڈر برآمد ہوا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ملزمہ سے ایفی ڈرین ہائیڈرو کلورائیڈ 930 گرام اور کیٹامین ہائیڈرو کلورائیڈ 500 گرام بھی برآمد کیا گیا۔ اسی طرح کوکین مکس ہائیڈرو کلورائیڈ 330 گرام بھی برآمد ہوا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق ایک بیگ سے 1050 گرام ایکٹون بھی برآمد ہوا، جبکہ ملزمہ سے کوکین بنانے میں استعمال ہونے والا 6970 گرام خام مال بھی برآمد کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برآمد ہونے والی منشیات کی کوالٹی کا کیمیکل ایگزامن کیا جائے گا، جس کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔ برآمد شدہ منشیات کو کیس پراپرٹی کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔