وفاقی آئینی عدالت نے سندھ حکومت کو ایڈیشنل ڈی جی ماحولیاتی ایجنسی کی تعیناتی کا دوبارہ جائزہ لینے کا حکم دے دیا، جبکہ ایڈیشنل ڈی جی ماحولیاتی ایجنسی کی تعلیمی قابلیت کی ایچ ای سی سے تصدیق کرنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
آئینی عدالت نے سندھ حکومت کی اپیل خارج کرتے ہوئے 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا، جو جسٹس روزی خان نے تحریر کیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے مطابق ہر شخص کو مکمل آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے، جبکہ زندگی کے بنیادی حق میں صاف شفاف ماحول بھی شامل ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں صاف شفاف ماحول کی فراہمی کو بنیادی حق کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
عدالت کے مطابق ڈی جی سندھ ماحولیاتی ایجنسی کا کردار شفاف ماحول کی فراہمی کے بنیادی حق کے لیے انتہائی اہم ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کسی نان ٹیکنیکل شخص کی اہم عہدے پر تقرری عوامی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ڈی جی ماحولیاتی ایجنسی کی ذمہ داری ماحولیاتی قوانین کا نفاذ اور عوام کو آلودگی سے بچانا ہے، جبکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اس عہدے پر تقرری خاص اہمیت رکھتی ہے۔
سندھ حکومت نے ڈی جی ماحولیاتی ایجنسی کے لیے ایک بیوروکریٹ کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جسے سندھ ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دیتے ہوئے تقرری کا دوبارہ جائزہ لینے کا حکم دیا تھا۔ سندھ حکومت نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف آئینی عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔