ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کا عالمی دن پر نایاب جنگلی حیات کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار

سفید پشت گدھ شدید خطرے سے دوچار نسل ہے اور جنگلات میں اس کی تعداد 50 سے بھی کم رہ گئی ہے


آصف محمود May 15, 2026

لاہور:

عالمی یومِ خطرے سے دوچار جنگلی حیات کے موقع پر ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر پاکستان اور محکمہ جنگلی حیات پنجاب نے پاکستان میں نایاب اور معدومی کے خطرے سے دوچار جنگلی حیات کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قدرتی مساکن کی تباہی، آلودگی، موسمیاتی تبدیلیاں اور انسانی سرگرمیاں متعدد انواع کو معدومی کے دہانے تک لے جارہی ہیں۔

اداروں کے مطابق حکومت، محققین اور مقامی آبادی کے اشتراک سے سفید پشت گدھ، لمبی چونچ والے گدھ، نایاب تیتر، تلور، میٹھے پانی کے کچھوے، سل خور، ایشیائی سیاہ ریچھ، سنو لیپرڈ اور اندھی ڈولفن سمیت مختلف خطرے سے دوچار جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ ان منصوبوں میں قدرتی مساکن کا تحفظ، سائنسی نگرانی، مقامی آبادی کی شمولیت اور پالیسی سازی شامل ہے۔

ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر پاکستان کے مطابق سفید پشت گدھ شدید خطرے سے دوچار نسل ہے اور جنگلات میں اس کی تعداد 50 سے بھی کم رہ گئی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سفید پشت گدھ کی افزائش کے لیے خصوصی مرکز قائم کیا گیا ہے جبکہ زہریلی ویٹرنری ادویات کے استعمال کو کم کرنے کے لیے ’’ولچر سیف زونز‘‘ بھی بنائے گئے ہیں۔ ادارے کے پاس افزائشی پروگرام کے تحت اس وقت 33 سفید پشت گدھ موجود ہیں۔

ادارے نے کہا کہ غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت بھی کئی انواع کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے، خصوصاً سل خور کے لیے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران پنجاب، سندھ اور آزاد کشمیر کے 100 سے زائد اہلکاروں اور رینجرز کو جنگلی حیات سے متعلق جرائم کی روک تھام، انواع کی شناخت، جانوروں کو محفوظ طریقے سے سنبھالنے اور اہلکاروں کی صحت و حفاظت سے متعلق تربیت فراہم کی گئی۔

اسی طرح، آزاد کشمیر وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے 25 اہلکاروں کو محفوظ علاقوں کے انتظام اور جنگلی حیات سے متعلق جرائم کی نگرانی کے لیے اسمارٹ ٹریننگ بھی دی گئی۔ ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر پاکستان نے دیوا وتالہ نیشنل پارک کے لیے زیرو پوچنگ پلان اور پاکستان میں غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت کی روک تھام کے لیے قومی حکمت عملی بھی تیار کی ہے۔

ادارے کے مطابق پنجاب، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں مقامی آبادی کے تعاون سے سل خور پروٹیکشن زونز قائم کیے گئے ہیں جبکہ حالیہ مہینوں میں کم از کم سات سل خوروں کو ریسکیو کرکے دوبارہ قدرتی ماحول میں چھوڑا گیا۔

سنو لیپرڈ کی حالیہ برسوں میں چترال اور گلگت بلتستان کے بلند پہاڑی علاقوں میں دوبارہ موجودگی کے حوالے سے ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر پروگرامز رب نواز نے کہا کہ ایک دہائی سے زائد عرصے بعد سنو لیپرڈ کی محدود مشاہدات کے باوجود دوبارہ موجودگی حوصلہ افزا ہے، تاہم اس سے آبادی میں اضافے کی تصدیق نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال پہاڑی ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور انسان و جنگلی حیات کے تنازعات میں کمی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

ترجمان محکمہ جنگلی حیات پنجاب کے مطابق صوبے میں معدومی سے دوچار جنگلی حیات کے تحفظ اور افزائش کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ نایاب انواع کے قدرتی مساکن کے تحفظ، غیر قانونی شکار کی روک تھام، جنگلی حیات کی نگرانی، بریڈنگ پروگرامز اور آگاہی مہمات کے ذریعے جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جارہا ہے۔

ترجمان کے مطابق محفوظ علاقوں میں نگرانی بڑھائی گئی ہے جبکہ غیر قانونی شکار اور جنگلی حیات کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر پاکستان کے سینئر منیجر ریسرچ اینڈ کنزرویشن محمد جمشید اقبال چوہدری نے کہا کہ عالمی یومِ خطرے سے دوچار انواع اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں کیونکہ صحت مند ماحولیاتی نظام صاف پانی، خوراک، موسمیاتی تحفظ اور پائیدار روزگار کے لیے ضروری ہے۔