امریکی ریاست الباما میں 22 سالہ وائٹنی ہارلو رابسن کو دو ماہ قبل بیدردی سے قتل کردیا گیا اور اس اندھے قتل میں پولیس پوری کوشش کے باوجود قاتل کا سراغ نہ لگا پائی تھی۔
امریکی میڈیا کے مطابق وائٹنی رابسن کی لاش 7 مارچ کو ایک رہائشی گھر سے برآمد ہوئی تھی جسے نہایت قریب سے گولیاں ماری گئی تھیں تاہم ابتدائی تفیش میں واقعے کو حادثاتی فائرنگ کا قرار دیا گیا تھا۔
بعد ازاں پولیس کو کچھ ایسے مشکوک اور چونکا دینے والے شواہد ملے جس کی تصدیق کے لیے فرانزک لیب سے رجوع کیا گیا اور اس سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر بطور قتل کیس اندراج ہوا۔
الباما پولیس نے بتایا کہ تفصیلی تحقیقات، گواہوں کے بیانات، فرانزک رپورٹ اور دیگر شواہد کی روشنی میں انکشاف ہوا کہ قاتل کوئی قریبی عزیز ہے اور تمام شکوک لڑکی کے بوائے فرینڈ کے والد کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔
جس پر 54 سالہ جیفری اسکاٹ ٹاورز کو حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں انھیں جیفرسن کاؤنٹی جیل منتقل کیا گیا جہاں انھیں 30 ہزار ڈالر کے ضمانتی مچلکوں پر رہا کر دیا گیا۔
ملزم کے وکلا کا کہنا ہے کہ جیفری ٹاورز کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں اور وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے انکار کرتے ہیں۔ عدالت میں تمام حقائق سامنے لائیں گے۔
پولیس کا بھی کہنا ہے کہ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور واقعے سے متعلق اضافی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ کیس کی سماعت 22 جولائی کو ہوگی۔
وائٹنی رابسن نے مئی 2025 میں انٹیریئر ڈیزائن میں ڈگری حاصل کی تھی اور حال ہی میں ایک فرنیچر اور ڈیزائن کمپنی میں ملازمت شروع کی تھی۔