یونیسکو کی طرف سے عارضی طور پر ورلڈ ہیریٹیج قرار دیے جانے والے دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شامل کالاش قبیلے کا مذہبی تہوار " ذوشی " جو مقامی لوگوں میں چلم جوش کے نام سے مشہور ہے ، حسب روایت ہفتے کے روز ڈھول کی تھاپ پر رقص کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ۔ جس میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی ۔
ہفتے کے روز بمبوریت کے مقام بتریک میں جو کہ کالاش حکمران راجہ وائے کا پایہ تخت بھی رہ چکا ہے، وادی بمبوریت کے مختلف گاؤں سے مردو خواتین نئے لباس پہنے فیسٹول کے مخصوص گیت گاتے، ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے پہلے چھوٹے چھارسو ( ڈانسنگ پلیس ) پہنچے ، جہان پر اپنے روایتی رسومات مکمل کرنے کے بعد بڑے چھارسو منتقل ہوئے ، اس دوران رنگ برنگی لباس میں ملبوس کالاش مردو خواتین کا حسب روایت اخروٹ کی ٹہنیاں ہاتھ میں ہلاتے اور سیٹیان بجاتے چھار سو میں داخلہ ایک دلکش منظر پیش کر رہا تھا۔
ڈانسنگ پلیس میں جوانسال لڑکے لڑکیاں اور مردو خواتین اپنے خوشنما ملبوسات زیب تن کئے روایتی جوش و خروش سے فیسٹول کو انتہائی رنگین بنایا ، جن کی تصویر کشی کیلئے سیاحوں نے انتہائی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ، ٹک ٹاکر کالاش لڑکے لڑکیاں اپنی الگ شناخت بنانے میں مصروف رہے۔
ذوشی ( چلم جوشٹ ) فیسٹول کالاش قبیلے کا موسم بہار تہوار ہے ، جو قدیم زمانے سے سردیوں کے موسم میں شدید برفباری ، بارشوں کی تکلیف دہ مہینو ن سے تنگ لوگ بہار کی آمد ، فصلوں کی تیاری نیز مال مویشیوں کی دودھ کی فراوانی کی خوشی میں مناتے رہے ہیں ۔ اس تہوار کے شروع میں دودھ جمع کیا جاتا ہے ، اور ایک ہفتے بعد " چیرک پی پی " یعنی دودھ پینے کی رسم ادا کی جاتی ہے ۔
فیسٹول کئی چھوٹے بڑے رسومات کی آدائیگی پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اور مختلف دیہات میں گاؤں کے مقامی افراد یہ رسوم ادا کرتے ہیں ، تاہم 16مئی کے دن مردو خواتین وادی بمبوریت کے مرکزی مذہبی مقام بتریک میں جمع ہوتے ہیں ، اور آخری رسومات ادا کرتے ہیں ۔
ملکی اور بین الاقوامی خراب معاشی اور عالمی کشیدہ حالات اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں و ہو شربا مہنگائی کی بنا یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا ، کہ اس مرتبہ فیسٹول میں ضلع سے باہر اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد بہت کم ہوگی ۔ لیکن حیرت کی بات ہے ، کہ اس مرتبہ نہ صرف ملکی اشرافیہ سمیت عام سیاحوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی بلکہ غیر ملکی سیاحوں کی بھی بہت بڑی تعداد فیسٹول میں شریک ہوئی ، جو کہ علاقے کیلئے انتہائی سود مند قرار دیا جارہا ہے ۔
وادیوں کے ہوٹلوں میں غیر معمولی رش دیکھا گیا ، اور ہوٹلوں کی بکنگ پہلے سے کئے جاچکے تھے ، فیسٹول کے دوران سیاحوں کی سہولت اور رہنمائی کیلئے مین چترال پشاور روڈ پر ٹورزم پولیس موجود رہی ، اسی طرح کالاش ویلیز میں امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے بھر خدمات انجام دیں ، جبکہ کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام ( KVDA) نے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کیلئے پہلے سے ہی اقدامات کئے تھے ، جسے سیاحوں نے بہت سراہا۔
ڈی جی کے وی ڈی اے فداء الکریم نے اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یونیسکو نے کالاش ثقافت کو عارضی طور پر ورلڈ ہیریٹیج میں شامل کیا ہے جس سے کالاش فیسٹول کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔