دنیا میں سب سے زیادہ غیر لچکدار رویے کا مظاہرہ یہودی ملک اسرائیل کر رہا ہے اور تمام مسلمان ممالک مکمل طور پر بے بس ہیں اور ایرانی حملوں نے خلیجی ممالک کو ایران سے مزید دور اور امریکا کے مزید قریب ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ اسرائیل نے فلسطین اور خاص کر غزہ کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے جب کہ لبنان پر اس کے حملے رکنے میں نہیں آ رہے اور کوئی دن ایسا نہیں گزر رہا کہ لبنان پر اسرائیل حملے نہ کر رہا ہو جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی اور جانی و مالی نقصان مسلسل ہو رہا ہے۔
امریکا میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جو مذاکرات ہوئے وہ بھی سودمند ثابت نہیں ہو سکے۔ امریکا جہاں یہ مذاکرات ہوئے اسے بھی لبنان سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ اس کی مکمل مدد اسرائیل کو حاصل ہے۔لبنان کی حکومت میں تو دم خم نہیں کہ وہ اسرائیلی حملوں کا جواب دے سکے بلکہ لبنان تو اسرائیل کے حملوں کو ناکام بنانے کی بھی سکت نہیں رکھتا اور اسرائیل کے حملوں سے لبنان مسلسل تباہ ہو رہا ہے۔ لبنان کا دارالحکومت بیروت جو دنیا بھر میں سیاحت کے سبب مشہور تھا ،وہ گزشتہ کئی سالوں سے تباہی کا شکار ہے جس کا سب سے زیادہ فائدہ علاقائی ریاستوں کو حاصل ہوا ۔ یو اے ای اسرائیل اور بھارت کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے ۔
مسلمانوں کے معاملے میں اسرائیل اور بھارت کی پالیسی یکساں ہے جس کا ثبوت مسلمانوں کے معاملے میں یہودی اور بھارتی وزرائے اعظم کا غیر لچکدار رویہ ہے اور یہ دونوں ہمیشہ سے مسلمانوں کے خون کے پیاسے رہے ہیں حالانکہ بھارت میں مسلمان پہلی بڑی اقلیت ہیں جب کہ اسرائیل میں بھی مسلمان موجود ہیں کہ جنھیں اسرائیل مسلمانوں کے اہم مذہبی تہواروں پر بھی مسلمانوں کو اپنے قبلہ اول میں داخلے کی اجازت نہیں دیتا اور بھارت میں بھی بی جے پی حکومت مسلمانوں کے ساتھ اسرائیل جیسا غیر لچکدار رویہ اختیار رکھے ہوئے ہے۔
1967ء کی جنگ کے بعد اسرائیل سے شکست کھانے والے ملک مصر، اردن اور شام نے اسرائیل کو تسلیم کرکے خود کو محفوظ کر لیا تھا جب کہ لبنان مکمل مسلم ملک نہیں ہے جہاں مسلمانوں اور عیسائیوں کی واضح اکثریت ہے، اسی لیے لبنان کی صدارت کسی عیسائی کو اور وزارت عظمیٰ مسلمان کو ملتی رہی ہے مگر مسلم علاقوں میں ایران کی مدد سے حماس اور حزب اللہ ایسی قوتیں ہیں جنھیں اسرائیل پسند نہیں کرتا اور یہ دونوں منظم و مسلح تنظیمیں بھی اسرائیل سے برسر پیکار رہ کر وہاں حملے کرتی رہتی ہیں۔ حماس نے ہی غزہ سے اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں طویل حملوں میں غزہ تباہ ہو گیا اور ساتھ ہی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانے بھی اسرائیلی حملوں کی زد میں رہے اور اب بھی ہیں۔
فلسطین کی کمزور حکومت اسرائیل کا مقابلہ نہیں کر سکتی،اسرائیل نے غزہ کو تباہ کر دیا مگر کوئی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکا ۔ اسرائیل و امریکا کے ایران پر حملوں کے نتیجے میں ایران نے اسرائیل پر جوابی حملے کیے اور ساتھ ہی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانے بھی اسرائیلی حملوں کی زد میں رہے اور اب بھی ہیں۔اسرائیل و امریکا نے مل کر ایران کے مذہبی پیشوا سمیت اہم ایرانی رہنماؤں کو شہید کر دیا مگر ایرانی حملوں میں اسرائیلی وزیر اعظم اور اہم یہودی رہنماؤں کا ایران کچھ نہ بگاڑ سکا۔
امریکا ایران کی پہنچ سے دور تھا، اس لیے ایران نے خلیج میں قائم تمام امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا اور چھے خلیجی ریاستیں ایرانی حملوں کا نشانہ بنائی گئیں جنھوں نے امریکی مدد سے کسی حد تک ایرانی حملوں کو ناکام بھی بنایا اور دبئی ایرانی ڈرونز اور راکٹوں کے حملوں میں سب سے زیادہ متاثر ہوا جس کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ سیاحت ہے۔ دبئی میں دنیا بھر کے سیاح تفریح کے لیے آتے جاتے ہیں مگر ایرانی حملوں سے دبئی میں اب سیاحت برائے نام رہ گئی ہے۔ ایران اور دبئی میں سرحدی تنازع بھی ہے۔ یو اے ای کی اسرائیل و بھارت سے تعلقات کے باوجود خلیجی ممالک میں دبئی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔کچھ ممالک باہمی تنازعات کے سبب ایران پر امریکا و اسرائیل کے حملوں کے حامی رہے ہیں ،اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو امریکا نے اس کا خیر مقدم کیا تھا ۔
ایران نے یو اے ای کو نشانہ بنایا مگر وال اسٹریٹ جرنل کی اس خبر کی ایران نے تردید یا تصدیق نہیں کی۔ حالیہ جنگ میں یو اے ای اور بحرین کا رویہ ایران کے سلسلے میں غیر لچکدار رہا۔ ایران نے خلیجی ریاستوں کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے یہ لچک دکھائی کہ جس میں مطالبہ کیا گیا کہ خلیجی ممالک اپنے ملکوں سے امریکی فوجی اڈے ختم کردیں تو ایران کے ان سے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں مگر خلیجی ممالک کی مجبوری ہے کہ وہ امریکا سے تعلقات میں لچک نہیں لا سکتے۔حالیہ جنگ اور ایرانی حملے روکنے میں اگرچہ امریکا نے خلیجی ریاستوں کی دفاعی طور پر عملی مدد نہیں کی جب کہ امریکا ان ریاستوں سے اس سلسلے میں بھاری رقوم وصول کرتا رہا ہے اور گزشتہ سال کے ان ریاستوں کے امریکی صدر ٹرمپ کے دوروں میں انھیں بے حد قیمتی تحائف بھی دیے گئے تھے مگر امریکا کی دلچسپی ان ریاستوں کی دولت حاصل کرنے میں ہے مگر امریکا نے حالیہ جنگ میں ان ریاستوں کو مایوس کیا ہے۔
خلیجی ریاستوں کا اعتماد ایران پر ختم ہوا ہے مگر ایران نہیں بلکہ امریکا ان کی مزید مجبوری بن گیا ہے جس کی وجہ سے اپنا حالیہ جنگی مالی نقصان ان متاثرہ ریاستوں سے ہی وصول کر لے گا۔ امریکا سے مذاکرات میں عالمی سطح پر ایران کے رویے کو غیر لچکدار اور امریکی صدر کے رویے کو لچکدار قرار دیا جا رہا ہے کہ ایران جنگ ٹال رہا ہے اور امریکا کی طرح لچک نہیں دکھا رہا جس سے بڑے ملکوں کی ایران سے ہمدردیاں متاثر ہوں گی اور دوبارہ جنگ کی صورت میں وہ امریکا کی حمایت پر مجبور ہوں گے۔ اسرائیل کو توقع ہے کہ ایران کے غیر لچکدار رویے سے مجوزہ مذاکرات ناکام رہیں گے اور موجودہ نازک صورت حال امریکا و اسرائیل کی جنگ دوبارہ شروع کرا دے گی۔