پنکی نے اہم افراد کے نام اگل دیے، جوڈیشل کمپلیکس پہنچتے ہی  شور شرابہ

جوڈیشل کمپلیکس آتے ہوئے آئی او نے تھپڑ مارا اور دھمکیاں دیں، ملزمہ کا الزام، جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع


کورٹ رپورٹر May 18, 2026
فوٹو اسکرین گریپ

کراچی:

انمول عرف پنکی نے جوڈیشل کمپلیکس پیشی کے موقع پر آج بھی شور شرابہ کیا اور کچھ نئے نام بھی اگل دیے، عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔

پولیس کی جانب سے سیکیورٹی وجوہات پر منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کو بغدادی تھانے میں منشیات کے استعمال اور قتل سے متعلق کیس میں جوڈیشل کمپلیکس پہنچایا گیا۔

ملزمہ کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو سخت سیکیورٹی میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس کی جانب سے انمول عرف پنکی کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ اس موقع پر میڈیا اور عام افراد کو اندر آنے جانے سے روک دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ آج صبح درخشاں پولیس کی جانب سے بھی سٹی کورٹ میں عدالتی ریمانڈ کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

آج جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے موقع پر انمول عرف پنکی نے میڈیا کو دیکھ کر شور شرابہ کیا، تاہم پولیس نے میڈیا کے نمائندوں کو دھکیل کر قریب آنے سے روک دیا اور جیسے ہی ملزمہ نے بولنا شروع کیا تو پولیس کی جانب سے شور مچایا گیا۔

جوڈیشل کمپلیکس آمد پر ملزمہ نے تفتیشی افسر کو کمرہ عدالت میں دھمکیاں بھی دیں۔ پنکی نے کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے تشدد کا نشانہ بنایا، ایس آئی او نے تھپڑ مارا ہے۔ مجھے آئی او نے دھمکیاں دیں اور کہا کہ منیب بٹ اور راجہ پرویز کا نام لینا ہے مجھ سے کہا جا رہا ہے کہ ان کا نام لو۔

ملزمہ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے 20دن سے اُٹھایا ہوا ہے۔ مجھے ابھی ابھی اندر لاتے ہوئے ایس آئی او نے تھپڑ مارا ہے۔ اس موقع پر ملزمہ کی جانب سے لیاقت گبول نے وکالت نامہ عدالت میں دائر کردیا۔

بغدادی تھانے میں منشیات کے استعمال اور قتل سے متعلق کیس کی سماعت کے آغاز پر جج کے استفسار پر ملزمہ نے بتایا کہ میرا نام انمول ہے۔ دورانِ سماعت آئی او نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمہ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہے، مزید ریمانڈ دیا جائے۔

سماعت کے موقع پر میڈیا اور عام افراد کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا گیا اور بند کمرے میں سماعت جاری رہی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کی ہدایت پر صحافیوں کو کورٹ بلڈنگ سے باہرنکال دیا گیا۔

ملزمہ کی سیکیورٹی پر مرد پولیس اہلکار تعینات کردئیے گیے، لیڈی کانسٹیبل ملزمہ کی کسٹڈی انچارج کو بھی کمرہ عدالت سے نکال دیا گیا جس پر وہ افسران پر غصہ ہوگئیں اور کہا کہ مرد اہلکاروں نے ملزمہ کو گھیرے میں لیا ہوا ہے جو کہ غلط ہے مرد اہلکار بدتمیزی کررہے ہیں میں افسران کو رپورٹ کروں گی، میں ایسی خواتین پر لعنت بھیجتی ہوں، وہ منشیات فروش ہے۔

ملزمہ نے عدالت میں بیان دیا کہ مجھے پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ جج نے پوچھا کہ  ملزمہ کا میڈیکل کیوں نہیں کرایا؟ ملزمہ نے کہا کہ مجھے ہراساں کیا جارہا ہے ڈرایا جارہا ہے مجھ سے کہا جارہا ہے کہ نام لیے جائیں۔

آئی او نے کہا کہ ملزمہ شاطر ہے اس کے خلاف ثبوت موجود ہیں، ملزمہ انٹرنیشنل منشیات فروش ہے، ملزمہ کی وائس ریکارڈنگ بھی موجود ہے جس میں یہ گفتگو کررہی ہے۔

اس پر ملزمہ انمول پنکی نے کہا کہ یہ ساری آڈیو اے آئی سے بنائی گئی ہی۔

اسی طرح ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ نے انمول عرف پنکی کے منشیات کے 5 مقدمات کی سماعت کی۔ سیشن جج ساؤتھ نے پولیس کی عدالتی ریمانڈ پر نظرثانی کی  درخواست واپس کردی اور کہا کہ ملزمہ پہلے ہی جسمانی ریمانڈ پر ہے اگر تفتیش کی ضرورت ہے تومتعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ سے رجوع کیا جائے۔

درخشاں تھانے میں انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات کے پانچ مقدمات درج ہیں۔ جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ نے ملزمہ کو پانچوں مقدمات میں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا آرڈر دیا تھا جس پر پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔

جوڈیشل مجسڑیٹ نمبر 8 جنوبی نے ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف قتل کے مقدمہ کی سماعت کی۔ عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ میں  4 روز کی توسیع کردی اور کہا کہ  ملزمہ سے تفتیش مکمل کرکے پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے۔