ورلڈ ڈیجیٹل کانفرنس

سوچ رہا ہوں کہ ہمارے بچوں کے سوالات کے جواب کون دے گا؟



14 مئی بروز منگل صبح صبح ہم ہوٹل سے متصل کانفرنس ہال میں بذریعہ گاڑی پہنچا دیے گئے۔ یہ مئی 2026 کی بات ہے۔ چین کے مشہور شہر ہانگژو میں دنیا بھر سے سیاسی قیادت، تعلیم کے ماہرین جمع ہوئے تھے۔

ایک شاندار، بہت بڑی کانفرنس تھی، جس میں ڈیجیٹل تعلیم کے مستقبل پر بات ہو رہی تھی۔ ہماری نشست پہلی صف میں تھی۔ سامنے والی میز پر چائے وغیرہ کے علاوہ ترجمہ کرنے والا آلا رکھا ہوا تھا۔ یہ چائینز زبان کو انگریزی میں تبدیل کر رہا تھا۔ ادھر  لفظ کی ادائیگی ہوتی، جملہ پورا ہوتا، ادھر تیز رفتاری سے اسکرین پر انگریزی اور چائینز میں اس کا ترجمہ خود بخود لکھا آجاتا۔ 

یہاں میری توجہ ایک عام سے اسکول کے کلاس روم نے کھینچی۔ جہاں، بالکل وہی پرانی سی عمارت، وہی سادہ سی کرسیاں اور میزیں۔ لیکن جیسے جیسے منظر سمجھ میں آنے لگا تو ایسا محسوس ہوا کہ اِک نئے جہاں کا دروازہ کھل گیا ہو۔ وہاں چھوٹے معصوم بچے بیٹھے تھے اور وہ اپنی کاپیوں و کتابوں سے بے نیاز اپنی مادری زبان میں سوال پوچھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں وہی زبردست چمک تھی جو کسی نئی چیز کو دریافت کرنے والے بچے کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ جوں ہی وہ سوال کرتے، فوراً ہی ان کے سوالوں کا جواب اسکرین پر ابھرتا ۔ ویڈیو، تصاویر  اور ان کی سمجھ میں آنے والی سادہ دلچسپ زبان میں۔ یہ جواب ترتیب دینے والا کوئی استاد نہیں بلکہ اک مصنوعی ذہانت تھی جسے ’سائنس کا ساتھی‘ کہہ کر پکار رہے تھے۔ یہ زندہ قوم کا جیتا جاگتا منصوبہ تھا ’سائنس لیڈنگ ہانگژو‘۔ میں غفلت کا مارا حیرت میں ڈوبا سوچ رہا تھا کہ کل اس دنیا کا نقشہ کیا ہوگا۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا یہ کوئی اچانک ابھرنے والا منظر تھا۔ نہیں، یہ سوچا سمجھا منصوبہ ابتدائی طور پر محض 22 اسکولوں سے  ایک تجربے کے طور پر شروع ہوا تھا۔ کس کو یقین ہوگا کہ AI مصنوعی ذہانت اتنی سادگی سے بچوں کے ساتھ گھل مل سکتی ہے۔ لیکن نتائج دیکھ کر بند ہوتی آنکھیں کھل چکیں، سفر کی تھکان اور نیند بھاگ چکی۔ یہ منصوبہ آج وہاں 180 اسکولوں میں چل رہا ہے۔ یہ مفروضہ یا خیال نہیں۔ یہ خواب کی تعبیر سے کشید ہوئے حقائق ہیں۔

یہ بچے اب تک چار لاکھ بیس ہزار سے زیادہ سوالات پوچھ چکے ہیں۔ یہ تعداد اتنی بڑی ہے کہ اگر آپ ہر سوال کو ایک منٹ میں پڑھیں تو آپ کو پورے آٹھ ماہ لگ جائیں گے۔ اور اعداد و شمار یہیں نہیں رکتے۔ سروے میں شامل 97 فیصد اساتذہ اس نظام کو اپنی روزمرہ کی پڑھائی کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ اساتذہ نے خود AI کا استعمال کرتے ہوئے نو ہزار دو سو گھنٹے سے زیادہ سبق کی تیاری میں صرف کیے، اور ایک ہزار چھ سو چالیس گھنٹے سے زیادہ AI کے ساتھ پڑھایا۔ یہ اعداد و شمار گونگے نہیں بلکہ یہ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ نیا نظام کام کر رہا ہے اور خوب کر رہا ہے۔

سوچ رہا تھا کہ آخر اس نظام کا راز کیا ہے؟ جو سمجھا وہ آپ کی نذر کرتا ہوں۔ چین کی دوڑتی بھاگتی دنیا کے اس راز کو تین حصوں میں سمجھا جا سکتا ہے۔ پہلے حصے میں بچہ سوال کرتا ہے، AI جواب دیتا ہے۔ کوئی پیچیدہ کی بورڈ نہیں، کوئی گرامر کی غلطیوں کا ڈر نہیں۔ بچہ وہی سوال پوچھتا ہے جو اس کے ذہن میں آتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے وہ اپنی ماں سے پوچھتا ہے۔ دوسرے حصے میں جب بچہ کوئی تجربہ دیکھنا چاہے تو AI اس کے سامنے ایک ورچوئل لیب کھول دیتا ہے ۔ وہاں پودے اُگتے ہیں، ستارے گھومتے ہیں، کیمیائی مرکبات بنتے اور بگڑتے ہیں۔ کوئ سر نہیں، کوئی خرچہ نہیں، یہ سب کچھ بغیر کسی خطرے کے اور بغیر کسی پیسے کے۔ تیسرے حصے میں جب بچہ اسکول سے گھر جاتا ہے، تو AI اس کے موبائل فون میں موجود ہوتا ہے۔ وہ اسے یاد دلاتا ہے کہ آج تم نے کلاس میں جو پوچھا تھا اس کی مزید تفصیل یہ ہے۔ یوں تعلیم چوبیس گھنٹے جاری رہتی ہے۔ یہ ہے تین ستاروں والا فارمولا جس نے ہانگژو کو میرے جیسے کم علم کےلیے حیرت کا باعث بنایا اور دنیا بھر سے آئے مندوبین کےلیے تو اپنی مثال وہ آپ ہی تھا۔

خواب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ مہنگا نہیں ہے۔ میری طرح آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ AI یعنی لاکھوں روپے کے آلات، یعنی بڑی بڑی اسکرینیں، یعنی انگریزی میں کمانڈ دینے والے ماہر۔ جی نہیں۔ ہانگژو نے ثابت کیا کہ ایک سادہ ٹیبلیٹ، ایک سستا مائیکروفون اور عام انٹرنیٹ کنکشن کافی ہے۔ سب سے اہم یہ کہ اس نے استاد کو بیروزگار نہیں بلکہ اس کے کندھوں سے بوجھ ہلکا کیا، یوں کہیے کہ اتارا ہے۔ اب استاد کمپیوٹر پر گھنٹوں لیکچر تیار کرنے کے بجائے طلبا کے ساتھ بیٹھ کر ان کی رہنمائی کرسکتا ہے۔ اس لیے سروے کے مطابق 97 فیصد اساتذہ نے اسے اپنانے کی خواہش ظاہر کی۔

جب یہ منصوبہ 2026 میں ہانگژو میں ہونے والی عالمی ڈیجیٹل تعلیمی کانفرنس میں پیش کیا گیا تو اسے دنیا کی دس بہترین کیس اسٹڈیز میں شامل کیا گیا۔ میں کیا دنیا بھر سے آئے مندوبین نے اسے خوب سراہا۔ بلاشبہ یہ ماڈل وسائل کی کمی کا شکار ممالک کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے اور یہیں سے یہ کہانی ہمارے ملک پاکستان سے جڑتی ہے۔ کیونکہ ہمارے ملک کے غریب علاقوں میں بھی لاکھوں بچے ہیں جو سوال پوچھنا چاہتے ہیں، لیکن انہیں جواب دینے والا موجود نہیں ہوتا۔ یہاں سائنس کے استاد کی کمی ہے، لیبارٹریوں کا فقدان ہے اور اکثر تو بجلی اور انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولتیں بھی مشکل سے ملتی ہیں۔

یہ ماڈل امید ہے کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی یہ کر سکتے ہیں۔ ایک سادہ ٹیبلیٹ، چند سستی ڈیوائسز اور ایک بار میں تیار کردہ AI سافٹ ویئر، بس اتنا ہی چاہیے۔ پھر وہ بچے جو آج سائنس کی کتابیں سمجھے بغیر رٹا لگا رہے ہیں، کل خود سوال پوچھنا اور جواب ڈھونڈنا سیکھ جائیں گے۔

یہ خواب نہیں،  حقیقت کا روپ دھار چکا ہے، جہاں ایک معمولی سے اسکول کا بچہ آج AI سے پوچھ رہا ہے ’آسمان نیلا کیوں ہے؟‘ اور کوئی بعید نہیں کہ کل وہی بچہ شاید کوئی نیا ستارہ دریافت کرلے۔ ہمارے ہاں بھی ایسے لاکھوں بچے ہیں، ان کی آنکھوں میں بھی وہی چمک ہے۔ ضرورت ہے تو صرف ایک موقع کی، ایک سادہ سے ٹیکنالوجی کی اور یقین کرنے کی کہ تعلیم کا مستقبل صرف مہنگے اسکولوں میں نہیں بلکہ سادہ سوچ میں پوشیدہ ہے۔ ثابت تو چین میں ہوچکا اب ہماری باری ہے کہ ہم اس سے سبق لیں یا پھر اپنے جھمیلوں میں الجھے رہیں۔

سوچ رہا ہوں کہ ہمارے بچوں کے سوالات کے جواب کون دے گا؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
ڈاکٹر عبید علی
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔