اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزالیل اسموٹریچ نے انکشاف کیا ہے کہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے پراسیکیوٹر نے ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کی درخواست دائر کردی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق انتہاپسند یہودی رہنما اسموٹریچ نے عالمی فوجداری عدالت کے متوقع وارنٹِ گرفتاری کو اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ قرار دیتے ہوئے فلسطینی گاؤں کو مسمار کرنے کا حکم دے دیا۔
خیال رہے کہ ابھی آئی سی سی نے باضابطہ طور پر اسرائیلی وزیر خزانہ کے خلاف الزامات کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں تاہم اطلاعات ہیں کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع میں مرکزی کردار ادا کرنے پر اسموٹریچ کے وارنٹ گرفتاری کی استدعا کی گئی ہے۔
یروشلم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک کے وزیراعظم، وزیر دفاع اور وزیر خزانہ کے خلاف گرفتاری وارنٹِ جاری کرنا اسرائیل کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔
انھوں نے عالمی فوجداری عدالت کو متعصب ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے تاریخی، مذہبی اور قانونی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اسرائیلی وزیر خزانہ نے الزام لگایا کہ فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیلی قیادت کے خلاف عالمی عدالت کو متحرک کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
انھوں نے دھمکی آمیز لہجے میں پابندیاں عائد کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطینی حکومت کے خلاف ہر ممکن معاشی اور انتظامی کارروائی کریں گے۔
خیال رہے کہ عالمی فوجداری عدالت میں وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے لیے پراسیکیوٹر پہلے درخواست دائر کرتا ہے جس کے بعد 3 ججوں پر مشتمل پری ٹرائل چیمبر شواہد اور قانونی نکات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق عالمی عدالت اسرائیلی وزیر خزانہ پر فلسطینی بستیوں کو مسمار کرکے یہودی آبادکاری کی کوششوں پر جنگی جرائم کے الزامات عائد کرسکتی ہے کیوں کہ یہ جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی سمجھی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر خزانہ نے جس فلسطینی بستی کو مسمار کرنے کا حکم دیا ہے وہ قدیم گاؤں ہے اور برسوں سے اسرائیل اور عالمی برادری کے درمیان تنازع کا مرکز ہے۔
اسرائیلی سپریم کورٹ نے 2018 میں اس بستی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہدام کی اجازت دی تھی، کیونکہ وہاں عمارتوں کے اجازت نامے اور زوننگ پلان موجود نہیں تھے۔
تاہم اسرائیلی حکومت بین الاقوامی ردعمل کے خوف سے اب تک اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کرسکی تھی۔
عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بستی کے انہدام کو جبری بے دخلی قرار دیتی رہی ہیں۔
اپنی پریس کانفرنس میں اسرائیلی وزیر خزانہ اسموتریچ نے مغربی کنارے میں 103 نئی یہودی بستیوں کے قیام یا قانونی حیثیت دینے کو بڑی کامیابی قرار دیا۔
اسرائیلی وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے دور میں 160 زرعی آؤٹ پوسٹس بھی قائم کی گئی ہیں جن کے ذریعے تقریباً 2 لاکھ 47 ہزار ایکڑ اراضی پر کنٹرول حاصل کیا گیا۔
یہ زرعی بستیاں تکنیکی طور پر غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں کیونکہ انہیں کابینہ کی باقاعدہ منظوری حاصل نہیں تاہم اسرائیلی وزارتیں اور دفاعی ادارے ان کی معاونت اور حفاظت کرتے ہیں۔
ایک انسانی حقوق کی اسرائیلی تنظیم کے مطابق اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد آبادکاروں کے تشدد کے نتیجے میں مغربی کنارے کے علاقوں B اور C میں 59 فلسطینی کمیونٹیز بے دخل ہوچکی ہیں جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 4 ہزار سے زیادہ ہے۔
اس تنظیم کا مزید کہنا ہے کہ یہودی آبادکار کھلے عام فلسطینیوں کو بے دخل کرکے زیادہ سے زیادہ زمین پر قبضہ کرنے کی بات کرتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ فلسطینی آبادی کی جبری منتقلی چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت جنگی جرم شمار ہوسکتی ہے۔
یاد رہے کہ نومبر 2024 میں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور اس وقت کے وزیر دفاع یواع گیلنٹ کے گرفتاری وارنٹ جاری کیے تھے۔
اسرائیل آئی سی سی کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا اور چونکہ وہ روم اسٹیچو کا رکن نہیں اس لیے عالمی فوجداری عدالت اسرائیلی شہریوں کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی۔
اسرائیل یہ بھی کہتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی آئی سی سی میں شمولیت عدالت کو اسرائیلی علاقوں پر اختیار نہیں دیتی کیونکہ اوسلو معاہدوں میں اس حوالے سے واضح حدود موجود ہیں۔