مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی تاحال برقرار ہے اور فریقین اب تک اس تنازع کے کسی حتمی حل تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور ایران کی جانب سے امن معاہدے پر اتفاق نہ ہوپانے کے باعث اب فریقین ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال کر رہے ہیں۔
ایران نے ایک بار پھر امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔
یہ بات ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہی۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکا کا نئے حملوں سے رک جانا دراصل ایران کی عسکری صلاحیت اور قومی اتحاد کا نتیجہ ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں انھوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر نئے فوجی حملوں میں ہچکچاہٹ ایک حقیقت کی وجہ سے ہے۔
ابراہیم عزیزی کے بقول صدر ٹرمپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کا مطلب فیصلہ کن فوجی ردعمل اور متحد قوم کا سامنا کرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک روز قبل کہا تھا کہ امریکا نے ایران پر طے شدہ حملہ مؤخر کردیا ہے تاکہ سفارتی مذاکرات کو موقع دیا جاسکے۔
ٹرمپ کے بقول انھوں نے حملے مؤخر کرنے کا فیصلہ سعودی عرب۔ قطر اور متحدہ عرب امارات کے سربراہان کی درخواست پر کیا کیوں کہ مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ڈھائی ماہ سے ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جس کے باعث پیٹرول کی قلت کا سامنا ہے اور قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔