اربوں ڈالر مالیت رکھنے والی ڈی-ایکسٹنکشن کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نیوزی لینڈ کے سب سے بڑے اور صدیوں پہلے ناپید ہوچکے پرندے جائنٹ موآ کو دوبارہ زندہ کرنے کے ایک اور اہم مرحلے کے قریب پہنچ گئی ہے۔
امریکی ریاست ٹیکساس کی مقامی کمپنی کولوسل بائیو سائنسز کے اعلان کے مطابق کمپنی نے ایک ایسا مصنوعی انڈا تیار کیا گیا ہے جسے کمپنی جائنٹ موآ کی واپسی کے لیے نہایت اہم قرار دے رہی ہے۔ یہ دیوہیکل پرندہ تقریباً 500 سال پہلے معدوم ہوگیا تھا۔
کمپنی کے مطابق اُس نے اس نئے مصنوعی انڈے سے کامیابی کے ساتھ 26 چوزے نکال لیے ہیں۔ یہ انڈا اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اسے بڑے پیمانے پر اور مختلف سائزز میں تیار کیا جاسکے۔
یہی بائیو ٹیک کمپنی اس سے پہلے یہ سنسنی خیز دعویٰ بھی کرچکی ہے کہ اُس نے خوفناک قدیم بھیڑیے ڈائر وولف کو دوبارہ زندہ کردیا ہے۔
تاہم، اس کے ڈی ایکسٹنکشن منصوبے مسلسل تنازعے کا شکار رہے ہیں، جہاں ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ ناپید جانداروں کو واپس لانا اخلاقی طور پر درست بھی ہے یا نہیں اور کیا واقعی اسے دوبارہ زندہ کرنا کہا جاسکتا ہے۔
یہ پراجیکٹ نگائی ٹاہو ریسرچ اور کینٹربری میوزیم کے اشتراک سے چلایا جا رہا ہے۔