امریکا نے ایران پر نئے حملوں کو خلیجی ممالک کی درخواست پر مؤخر کردیا ہے لیکن اسرائیل اب بھی تیاریوں میں مصروف ہے۔
میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی ایران پر ممکنہ امریکی حملے میں شرکت کی تیاریاں جاری ہیں۔
اسرائیلی چینل 12 نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کی سیاسی اور عسکری قیادت امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے پر اتفاق کو خارج از امکان سمجھتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی وجہ ہے، اگر امریکا نے کسی بھی موقع پر ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کی تو اسرائیلی فوج بھی اس میں شامل ہوگی۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام کے بقول ٹرمپ کے حملہ مؤخر کرنے کے اعلان نے دراصل ان کے آپشنز مزید محدود کردیے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے گزشتہ شب ایک اہم اور حساس سیکیورٹی اجلاس طلب کیا تھا جو تقریباً 5 گھنٹے بغیر کسی وقفے کے جاری رہا۔
اجلاس میں اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف، فضائیہ کے سربراہ، فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ، آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے حکام اور دیگر سینئر دفاعی عہدیدار شریک ہوئے۔
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی توانائی تنصیبات اور اسٹریٹجک اہداف کے خلاف ممکنہ کارروائیوں پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس کا مقصد امریکا کی ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں اسرائیل کی شمولیت کی مکمل تیاری کو یقینی بنانا تھا۔
اجلاس میں اسرائیل اور امریکا کے درمیان ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے حوالے سے مسلسل رابطے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ماضی میں بھی اسرائیلی فوج اور امریکی سینٹکام حکام کے درمیان ممکنہ فوجی آپشنز پر مشاورت کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر فروری کے آخری روز ایران پر پہلا حملہ کیا تھا جس کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز بند کرکے دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل روک دی ہے۔