تہران:
ایران نے جنوبی شہر میناب کے اسکول پر میزائل حملے سے متعلق امریکی دعوؤں کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی ادارے کو فوجی اڈہ قرار دینا حقائق چھپانے کی کوشش ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کا یہ مؤقف کہ متاثرہ اسکول کسی کروز میزائل بیس کے اندر قائم تھا بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی حکام 28 فروری کو ہونے والے حملے کی سنگین نوعیت سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایرانی ترجمان کے مطابق اسکول کے اوقات میں بچوں سے بھرے تعلیمی ادارے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور ناقابلِ قبول اقدام ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ حملے کے منصوبہ سازوں اور اس پر عمل درآمد کرنے والوں کو عالمی قوانین کے تحت جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کانگریس کی نگرانی کمیٹی کے سامنے پیشی کے دوران اسکول پر حملے کی براہِ راست ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مقام کے حوالے سے تحقیقات پیچیدہ نوعیت اختیار کرچکی ہیں کیونکہ امریکی مؤقف کے مطابق اسکول ایک فعال ایرانی میزائل تنصیب کے قریب واقع تھا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنگ کے ابتدائی روز جنوبی شہر میناب میں ہونے والے حملے میں 168 بچے شہید ہوئے تھے جس کے بعد ایران بھر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
ادھر بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فوج کی ابتدائی تحقیقات میں اس امکان کو نظرانداز نہیں کیا گیا کہ اسکول کی تباہی امریکی کارروائی کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔