بھارتی وزیراعظم مودی کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران اس وقت غیر متوقع صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب ایک خاتون صحافی نے آزاد میڈیا اور بنیادی حقوق کے حوالے سے سخت سوالات اٹھا دیے۔
رپورٹس کے مطابق ناروے کے وزیراعظم کے ساتھ مشترکہ بریفنگ کے اختتام پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی صحافیوں کے سوالات لیے بغیر روانہ ہونے لگے، جس پر ناروے کی صحافی ہیلے لنگ نے بلند آواز میں سوال کیا کہ ’مودی دنیا کے آزاد میڈیا کا سامنا کیوں نہیں کرتے؟‘
عینی شاہدین کے مطابق صحافی نے دوبارہ سوال کرنے کی کوشش کی، تاہم اسی دوران لفٹ کا دروازہ بند ہوگیا اور بھارتی وزیراعظم وہاں سے روانہ ہوگئے۔
بعد ازاں بھارتی وزارت خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران بھی میڈیا آزادی اور انسانی حقوق کے معاملے پر تلخ جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔
خاتون صحافی نے سوال اٹھایا کہ جب بھارت میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات موجود ہیں تو ناروے بھارت پر کیسے اعتماد کرے گا، اور وزیراعظم مودی آزادانہ سوالات کب قبول کریں گے؟
رپورٹس کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سوال کا براہ راست جواب دینے کے بجائے اگلا سوال کہہ کر دوسرے صحافی کو موقع دے دیا، جس پر خاتون صحافی ناراضی کے عالم میں ہال سے باہر چلی گئیں۔
بعد میں ہیلے لنگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ بھارتی وزیراعظم ان کا سوال نہیں لیں گے۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ ناروے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ انڈیا 157 ویں نمبر پر موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کی طاقتور حکومتوں سے سوال کرنا آزاد صحافت کی ذمہ داری ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہوگیا، جہاں کئی صارفین نے میڈیا آزادی اور جمہوری اقدار پر بحث شروع کردی۔