کراچی:
پولیس کی جانب سے گرفتار کوئین کوکین ملزمہ انمول عرف پنکی سے اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم نے بھی تفتیش شروع کردی ہے۔
ایس آئی یو ذرائع کے مطابق پولیس ٹیم نے پنکی کی مبینہ سرپرستی میں ملوث مبینہ پولیس افسران و اہلکاروں سے متعلق سوالات کیے۔
پنکی سے رشوت لینے والے مبینہ افسران و اہلکاروں کی فہرست تیار کرلی گئی ہے اور اب تک کی تفتیش میں ایس آئی یو کے کسی اہلکار یا افسر کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے نہیں آئے تاہم 12 مبینہ پولیس اہلکار اور افسران رشوت وصول کرتے تھے۔
فہرست میں ساوٴتھ کے پولیس اہلکار شامل ہیں۔ ساوٴتھ پولیس نے پنکی کے کارندے سمیر سے دوبارہ تفتیش کی تیاری شروع کر دی، ملزم سمیر کا دوبارہ ریمانڈ لینے کے لیے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔
تفتیشی حکام کے مطابق پنکی سمیر کے بینک اکاوٴنٹ سمیت بے نامی اکاوٴنٹس استعمال کرتی تھی۔ سمیر کے اکاوٴنٹ سے چند روز قبل 9 لاکھ روپے نکالے گئے۔ پنکی کے 35 آن لائن رائیڈرز کی تفصیلات بھی حاصل کی گئی ہیں جن میں سے 10 رائیڈرز کا تعلق پنجاب سے ہے۔ مختلف اوقات میں 25 میں سے 17 منشیات سپلائر رائیڈرز حراست میں لیے گئے۔
اس حوالے سے ایس ایس پی ایس آئی یو ڈاکٹر سمیع اللہ نے بتایا کہ ملزمہ انمول پنکی سے ایس آئی یو نے تفتیش کی ہے۔ ملزمہ سے منشیات نیٹ ورک کے تمام پہلوؤں کے حوالے سے تفصیلات معلوم کی جاری ہیں، ملزمہ نے اہم انکشافات کیے ہیں۔